Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.comAap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com
  Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com
Register Achi Dosti VideosInvite Your Friends FAQ Calendar Search Today's Posts Mark Forums Read


Home Today's Posts
Go Back   Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com > Pakistan And Current Affairs > Pakistan Heart of Asia

Pakistan Heart of Asia A Place to express your patriotism. Share and read general information, history of Pakistan, Famous personalities, Newpaper, and much more.


User Tag List

Reply
 
Thread Tools Display Modes
  #1  
Old 03-23-2018, 07:31 AM
deewan deewan is offline
Member
Points: 3,158, Level: 34
Points: 3,158, Level: 34 Points: 3,158, Level: 34 Points: 3,158, Level: 34
Level up: 72%, 42 Points needed
Level up: 72% Level up: 72% Level up: 72%
Activity: 38%
Activity: 38% Activity: 38% Activity: 38%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Jul 2015
Posts: 50
Thanks: 1
Thanked 54 Times in 38 Posts
Mentioned: 1 Post(s)
Tagged: 64 Thread(s)
Rep Power: 25
deewan is on a distinguished roaddeewan is on a distinguished roaddeewan is on a distinguished roaddeewan is on a distinguished roaddeewan is on a distinguished road
Default [سیاسی شعور] ہم سیاسی کام کیسے کریں؟-3: طریقہ کار کی تفصیل

اس کام کا طریقہ کار یا لائحہ عمل


گروپ کا قیام
اس کام کی بنیاد گروپ کا قیام ہے۔ یہ گروپ ان ہم خیال لوگوں پر مشتمل ہوگا جو اپنی کوششوں کو اجتماعی شکل دینا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان کی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکیں۔ اس کام کو ملک گیر سطح پر کرنا ہے۔ پاکستان کے ہر ہر حلقے اور ہرہر محلے کی سطح پر گروپ قائم کیے جائیں جو اپنے مقامی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنا طریقہ کار خود طے کریں۔ ایک شہر بلکہ ہر انتخابی حلقے میں متعدد گروپ بھی ہوسکتے ہیں بلکہ ہونے چاہییں جو جہاں تک ہوسکے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ البتہ ہر گروپ اپنے طور پر ایک آزاد حیثیت رکھتا ہو۔ یہ کام البتہ مرکزی نہیں ہوگا اس طور پر کہ اس کا ایک صدر ہو جس کے تحت مختلف عہدے دار ہیں۔
البتہ ایسا واقعہ جس کا اثر قومی سطح پر ہوسکتا ہے اس کے لیے تمام گروپوں کو مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ مثلا کسی حلقے میں انتخابات کے دوران دھاندلی ہوئی اور اس کے کچھ ثبوت بھی سامنے آگئے ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اس کو دیکھا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ گو کہ یہ ایک حلقے میں ہوا لیکن یہ معاملہ اب قومی سطح کا ہے اس لیے کہ اگر اس واقعے کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو اور جگہوں پر بااثر لوگ اسی طرح کی دھاندلی کریں گے۔ بھرپور اثر کے لیے البتہ ضروری ہے کہ سارے پاکستان سے سب گروپ مل کر ایک ہی وقت پر احتجاجی کاروائی کریں تاکہ بات میں وزن پیدا ہو جائے۔
نوٹ:اس قسم کی صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ڈھیلا ڈھالا سا کوئی نظم ہونا چاہیے جو اس قسم کے موقعوں پر ملکی سطح پر کاروائی کو منظم کرسکے۔ یہ کام گو کہ غیرمرکزی ہے لیکن قومی سطح پر اس کو اثرانداز بنانے کے لیے کوئی ایسا نظم ہونا چاہیے جو تمام گروپوں میں رابطے کا کام سرانجام دے تاکہ بوقت ضرورت پاکستان کی سطح پر کوئی کاروائی کرنی ہو تو گروپوں کو متحرک کیا جا سکے۔
1) جیسا کہ بتایا گیا اس کام کی بنیاد گروپ پر ہے۔ گروپ بنانا یا نہ بنانا یہ سب آپ کے حالات پر منحصر ہے۔ البتہ گروپ کا قیام لازمی ہے۔ گروپ کے بغیر یہ کام نہیں چل سکے گا۔
2) اگر علاقے میں پہلے ہی سے کوئی گروپ قائم ہے تو اس کے ساتھ کام کرنا بہتر ہوگا۔ البتہ اگر ہم آہنگی نہ ہو تو اپنا علیحدہ گروپ بنا لیں۔
3) ہر گروپ اپنا دائرہ عمل چنے گا۔ یعنی گروپ کا کام بلدیاتی سطح پر ہوگا یا پارلیمانی سطح پر۔ اس میں بھی گروپ کی توجہ کا مرکز صرف جس علاقے میں وہ گروپ قائم ہے اس کا حلقہ، بلدیاتی، صوبائی یا وفاقی پارلیمان ہی ہوگا۔ البتہ کسی اہم مسئلے پر آپ اپنے دائرہ عمل کو بڑھا سکتے ہیں لیکن یہ ایک وقتی بات ہوگی۔
4) اس گروپ کی ممبرشپ ہر پاکستانی کے لیے کسی امتیاز کے بغیر کھلی ہوئی ہو۔
گروپ میں افراد کی تعداد
5) گروپ میں شامل افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی ضابطہ تو نہیں ہوسکتا لیکن بعض تجربات کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ سات آٹھ مستقل مزاج افراد بھی کام کو لے کر چل سکتے ہیں۔ یہ تعداد البتہ حتمی نہیں ہے۔ بلکہ جتنے لوگ بھی شامل ہوجائیں اچھا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ شامل ہونے والے تو بہت ہوں لیکن اگر کام کو مستقل مزاجی سے کرنے والے سات آٹھ بھی ہوں تو کام نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔ البتہ وہ لوگ جو بہت فعال نہ ہوں ان کو گروپ میں ضرور شامل رکھا جائے اور مشوروں میں ان کو ضرور شامل کیا جائے۔ یہ بھی شراکت کا ایک درجہ ہے۔ اپنے گروپ میں ہر عمر کے آدمی کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تجربے کا کوئی بدل نہیں!
6) گروپ کا ایک لیڈر ضرور ہونا چاہیے جو آپس کے مشورے سے چنا جائے۔ اس سلسلے میں یہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک متعین مدت کے بعد گروپ کے کسی اور ممبر کو لیڈر بننے کا موقع دیا جائے۔ لیکن یہ سب کچھ ہر گروپ کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے۔
7) گروپ لیڈر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے ممبران سے مشورہ کرکے بہتر سے بہتر فیصلہ کرے۔ یاد رہے لیڈر مشورہ لینے کے بعد جو فیصلہ کرے سب لوگوں کو اس کا ماننا ضروری ہے۔
8) باہمی مشورے سے اپنے گروپ کا ایک اچھا سا نام بھی چن لیجیے۔ گروپ کے نام میں اپنے علاقے کا نام بھی کسی طور شامل کریں تاکہ ایک شناخت قائم ہوسکے۔
9) اس گروپ کا تعارف اور اس کے اغراض و مقاصد کو لکھ لیا جائے۔ انتہائی ضروری ہے کہ آپ کے گروپ کے اغراض و مقاصد گنے چنے ہوں تاکہ آپ کی سرگرمیاں محدود دائرے میں رہیں۔ گروپ کے مقاصد بالکل واضح اور متعین ہونے چاہیں۔ آپ جو مقاصد مناسب سمجھتے ہوں ان کو اختیار کریں لیکن یاد رہے کہ ہر گروپ کا ایک بنیادی مقصد اپنے نمائندے کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانا ہے اور اس کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر مجبور کرنا ہے اور یہ پیغام دینا ہے کہ اگر وہ اپنے منصب کے تقاضے پورے نہیں کرے گا تو اس کے دوبارہ انتخاب کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
10) اپنے گروپ کے کچھ بنیادی قواعد بھی طے کرلیں جن کے ذریعے کاموں کو انجام دیا جائےگا۔
11) کچھ لوگوں کو ذمہ دار منتخب کرلیں جن کی ذمہ داریاں بھی طے کرلیں۔کم ازکم ایک یا دو افراد کو گروپ کی تنظیم کا ذمہ دار بنایا جائے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گروپ کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے کسی اور کو ذمہ دار بنایا جائے۔ گروپ کے کسی ممبر کو مزید لوگوں کو شامل کرنے کا ذمہ دار بنایا جائے۔
12) ایک ذمہ دار گروپ کی سرگرمیوں کی رپورٹ لکھنے پر مامور ہونا چاہیے۔
13) گروپ کا ای میل اکاؤنٹ، واٹس ایپ گروپ اور فیس بک پر ایک اکاؤنٹ بنا لینا چاہیے۔ یہی بنیادی طور پر اس گروپ کی شناخت، اس کا دفتر، اس کی سرگرمیوں کے متعلق خبروں کا ذریعہ ہوگا۔ اس کے ذریعے آپ دوسرے لوگوں کو اپنے گروپ میں شمولیت کی دعوت دے سکتے ہیں۔ واٹس ایپ کے ذریعے سے بھی گروپ میں شمولیت کی دعوت دی جاسکتی ہے۔
نوٹ:اسواٹسایپگروپمیںعلاقےسےمتعلقسرگرمیوںکےعلاوہکچھنہبھیجیں۔
14) ایک پمفلٹ کی صورت میں اپنے اغراض و مقاصد لکھ کر کئی کاپیاں بھی کرالیں تاکہ وہ لوگ جو سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے ان تک بھی بات پہنچائی جاسکے۔ یہ پمفلٹ کسی انفرادی ملاقات کے وقت ساتھ لے جانا نہ بھولیے۔
15) یہ گروپ اپنی مدد آپ کے اصول پر چلے گا۔ تمام تر مالی اخراجات ممبران خود اٹھائیں گے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ گروپ کے اخراجات کم از کم حد تک رہیں تاکہ کسی پر بار نہ پڑے۔
16) ہر گروپ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ محلے اور شہر کی سطح پر اپنی سرگرمیوں اور ان کے نتائج سے عام لوگوں کو باخبر رکھے اور ان نتائج پر غور و خوض کرنے کے بعد ان کو آگے کا لائحہ عمل بھی بتائے۔
17) ایک حلقے میں ایک سے زیادہ گروپ ہونے ضروری ہے اس لیے کہ حلقے اتنے بڑے بڑے ہوتے ہیں کہ ایک گروپ کی رسائی ممکن نہیں اس لیے لازمی ہے کہ ایک حلقے میں ایک سے زیادہ خودمختار گروپ ہوں جو اپنے اپنے طور پر کام کریں۔
مقامیکامپرتوجہ
اس کام میں بنیادی نکتہ اپنے مقامی کام پر پوری توجہ مرکوز رکھنا ہے۔ گروپ کی بنیاد پر آپس میں تبادلہ خیال کے ذریعے اپنے کام کو آگے بڑھایا جائے۔گو کہ دوسرے گروپوں سے تبادلہ خیالات بلکہ بعض اوقات مل کر کام کرنے کا بھی موقع آسکتا ہے، لیکن اصل اہمیت اپنے علاقے میں کام کرنا ہے۔ ہم خیال افراد کا ایک مجموعہ بہت سے ایسے کام کرسکتا ہے جو بڑے بڑے گروپ نہیں کرسکتے۔ اس کی مثال گوریلا جنگ کی ہے جہاں چھوٹے چھوٹے گروپ بڑی بڑی فوجوں کی کمر توڑ دیتے ہیں۔
یاد رہے!


· اس کتابچے کا مقصد ملک میں جاری ناانصافی، ظلم، بدعنوانی، اقربا پروری وغیرہ کا خاتمہ ہے لیکن یہ کام نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ محبت اور بھائی چارگی کی بنیاد پر کرنا ہے۔
· اپنی بات دوسروں تک بہترین طریقے سے پہنچائیں۔ جو آپ کی بات سے متفق ہوں وہ آپ کے ہم خیال ہیں۔ جو اس سے متفق نہ ہوں وہ آپ کے دشمن نہیں ہیں۔
· غلط بیانی، جھوٹ سے ہر حال میں بچیں۔
· بداخلاقی سے بچیں کسی کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
· ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، گھیراؤ جلاؤ جیسی سرگرمیاں اس کام کے لیے قطعی مفید نہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال آتا ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے تو فورا رک جائیں۔ ورنہ آپ خیر کی نہیں شر کی مدد کرنے والے ہوجائیں گے۔
· پولیس اور دیگر امن عامہ کے اداروں سے قطعی نہ الجھیں۔ ان کے اختیارات بے حساب ہیں اور ہمارے ملک میں یہ کسی اخلاقی یا قانونی بندشوں سے آزاد ہیں۔ یہی نہیں بلکہ یہ بڑی حد تک نمائندوں کے زیر اثر ہوتے ہیں۔
منتخب نمائندے کیا چاہتے ہیں؟


اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ہمارے منتخب نمائندے یا وہ جو منتخب ہونا چاہتے ہیں کس طرح سوچتے ہیں؟ اس سے ہمیں ان کی نفسیات کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور شعور و آگہی کے اس کام کو آگے بڑھانے اور نتیجے تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
سب سے بنیادی بات جو سمجھنے کی ہے کہ ہر منتخب نمائندہ اس بات کی شدید خواہش رکھتا ہے کہ وہ بار بار منتخب ہوتا رہے۔ ان میں سے ہر ایک کی مستقل سوچ یہی ہوتی ہے کہ کسی طور یہ منصب اس سے نہ چھوٹے۔ اس مقصد کے پیش نظر وہ جھوٹی سچی باتوں سے اپنی ساکھ قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے حلقے کے لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ وہ ان کی خدمت میں ہر وقت مشغول ہیں۔ سوائے چند لوگوں کے ان کی اکثریت کسی فکری نظریے کی پابند نہیں ہے نہ ہی یہ کسی بلند مقصد کے لیے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ بلکہ ان کا واحد مقصد اپنے ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔
یہ لوگ انتخابی مہم کے دوران تو ہر طرح کے وعدے کرتے ہیں جن سے ان کا مقصد ووٹ لینا ہوتا ہے اس کے بعد وہ اپنے حلقے سے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر یہی ہوتا ہےکہ اگلی دفعہ پھر کچھ نئے وعدے کچھ نئے منصبوے پیش کرکے ووٹ لے لیں گے۔
اپنے مفادات کے حصول کے لیے انتخابات میں کامیابی ایک ان پر ایک مستقل دباؤ ہے جس میں یہ رہتے ہیں۔ ان کی اسی فکر کو ان کے خلاف استعمال کرنا ہے۔ وہ اس طرح کہ ان کے دوبارہ انتخاب کا مسئلہ غیریقینی بنا دیا جائے تو وہ یقینا اپنی سوچ اور عمل کو بدلنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ان کو یہ باور کرا دینا ہے کہ تم ہمارے نمائندے ہو اور تم کو ہمارے مسائل کے حل کے لیے کام کرنا ہے بصورت دیگر ان تک یہ پیغام صاف صاف پہنچا دینا ہے کہ تمہارا دوبارہ منتخب ہونا ناممکن ہوگا۔ اس کا ایک ہی طریقہ کار ہے وہ یہ کہ ہر پاکستانی کو سمجھانا ہے کہ وہ اپنا ووٹ بہت سوچ سمجھ کر استعمال کرے کیونکہ اس کا ووٹ صرف اسی پر اثرانداز نہیں ہوتا بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔
یہ بات ذہن میں واضح رہے کہ ہماری سیاسی قیادت میں جو لوگ شامل ہیں ان میں کئی اپنے اپنے حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔ گو کہ یہ لوگ اپنے علاقوں کے لوگوں کو کچھ نہیں دیتے لیکن اپنے وسائل کی کثرت، سیاسی چمک اور برادری کی لپک اور عمومی جہالت کو استعمال کرتے ہیں اور بار بار منتخب ہوجاتے ہیں۔ لیکن امید کی کرن شوشل میڈیا کا عام استعمال ہے جو اب ہر پڑھے لکھے اور ان پڑھ شخص کی دسترس میں ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ ان لوگوں کو بھی شعور اور آگہی دی جاسکتی ہے۔
اس بات کو ذہن سے نکال دیں کہ اگر وہ نمائندہ ایک ایسے حلقے سے منتخب ہوا ہے جو اس کے خاندان یا پارٹی کا گڑھ ہے تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس کے حلقے والے اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ درحقیقت ذرائع ابلاغ نے عام سطح پر اس قدر شعور پیدا کردیا ہے کہ اب ہر پاکستانی کسی نہ کسی درجے میں اپنے حقوق کا احساس کرنے لگا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس احساس کو پختہ کیا جائے اور اسے ایک مستقل قوت کی شکل دے دی جائے۔ اس کتابچے میں دیے گئے لائحہ عمل کا یہی مقصد ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں


یہ بات ذہن میں رہے کہ جو لوگ اس وقت پاکستان کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں ان کے نزدیک ان کے مفاد سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اس کو حاصل کرنے کے لیے وہ کسی حد تک بھی جانے کے لیے تیار ہیں۔ حکومت اور اس کے تمام ادارے ان کے گھر کی باندی بنے ہوئے ہیں۔ آپ کا ان کی سرگرمیوں کا ڈھول بجانا ان کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوگی جس سے ان کے منصب کو خطرہ درپیش ہوسکتا ہے اور وہ شدید رد عمل کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ ان سے نمٹنا آسان نہیں۔ اسی لیے اس کتابچے میں بار بار اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ ٹکراؤ سے بچنا ضروری ہے۔ اس مفاد پرست ٹولے سے نمٹنے کے لیے دو ہتھیار انتہائی کارگر ہوں گے۔
· سوشل میڈیا کا استعمال جس کے ذریعے سے آپ بغیر ٹکراؤ کے بھی اپنی بات پیش کرسکتے ہیں۔
· اپنی بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا جو پہلے ہتھیار یعنی سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپور طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔
ہم اکثریت میں ہیں! مفاد پرست طبقہ بہت تھوڑا ہے۔ اپنا پیغام محبت اور حکمت سے دیں۔ ان شاءاللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
میں اپنے گروپ میں لوگوں کو کیسے شامل کروں؟


اوپر دئیے ہوئے طریقہ کار کے مطابق گروپ قائم کرنے کے لیے افراد کو اکٹھا کرنا ایک لازمی کام ہوگا۔ لوگوں کو کسی کام پر ابھارنے کے لیے ان سے انفرادی رابطہ بے حد ضروری ہے۔ذیل میں چند نکات ہیں جو آپ انفرادی ملاقات میں پیش کرسکتے ہیں جو امید ہے کہ لوگوں کو گروپ میں شمولیت پر آمادہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
· آپ کے گروپ کے مقاصد کے علاوہ ان مسائل کا تذکرہ جن سے علاقے کے لوگوں کو سامنا ہے لوگوں کو آپ کا ساتھ دینے پر ابھار سکتا ہے۔ لوگ اسی وقت کسی کام میں دلچسپی لیتے ہیں جب ان کو اس میں اپنا کا کوئی ذاتی فائدہ نظر آتا ہے۔
· آپ کس طرح اپنے نمائندے کی توجہ علاقے کے مسائل کی طرف دلانا چاہتے ہیں اور ان کے حل کے لیے آپ کے ذہن میں کیا تجاویز ہیں ان کا تذکرہ کرنے سے بھی لوگ آپ کا ساتھ دینے پر رضامند ہوسکتے ہیں۔
· اپنی گفتگو کے ساتھ ان کی بات کو بھی پوری توجہ سے سنیں۔ بلکہ کوشش کریں کہ زیادہ وقت ان کی بات سنیں تاکہ ان کی سوچ اور فکر آپ کو پتہ چل سکے۔
· اپنے گروپ کے مقاصد کا پمفلٹ بھی ملاقات کے وقت پیش کرنا چاہیے۔ بعض اوقات انسان فوری فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا اس لیے ممکن ہے کہ وہ بعد میں کسی وقت پمفلٹ کو پڑھ کر آپ کا ساتھ دینے پر راضی ہوجائے۔
· ملاقات کے ایک دو دن بعد موبائل پر رابطہ کرکے ان کو دوبارہ گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔
یہاں اس بات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی آپ کو ملے گی جو آپ کے کام سے متفق ہوں گے لیکن اپنی ذاتی وجوہات کی وجہ سے عملی طور پر گروپ میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کو آپ متفق کہہ سکتے ہیں۔ ان سے اتنی اجازت ضرور لے لیں کہ آپ ان کا نام اپنے واٹس ایپ گروپ میں شامل کرلیں۔ ایسے لوگوں کو کم اہم نہ سمجھیں، یہ خاموش اکثریت بہت کام کی ہوتی ہے۔
(جاری ہے)
Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to deewan For This Useful Post:
Haya Fatima (03-27-2018), ROHAAN FAISAL (03-23-2018)
  #2  
Old 03-23-2018, 05:05 PM
ROHAAN FAISAL's Avatar
ROHAAN FAISAL ROHAAN FAISAL is offline
Super Moderator
Points: 82,761, Level: 100
Points: 82,761, Level: 100 Points: 82,761, Level: 100 Points: 82,761, Level: 100
Level up: 0%, 0 Points needed
Level up: 0% Level up: 0% Level up: 0%
Activity: 99%
Activity: 99% Activity: 99% Activity: 99%
میرے لیئے اللہ
ہی کافی ہے
 
I am: Cheerful
 
Join Date: Sep 2011
Posts: 13,579
Thanks: 1,044
Thanked 1,664 Times in 694 Posts
Mentioned: 280 Post(s)
Tagged: 1395 Thread(s)
Rep Power: 361
ROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to behold
ROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to beholdROHAAN FAISAL is a splendid one to behold

Awards Showcase
Monthly Most Active Member 
Total Awards: 1

Default

__________________
Reply With Quote
  #3  
Old 03-27-2018, 05:46 AM
Haya Fatima's Avatar
Haya Fatima Haya Fatima is offline
ıllıllı sεαяcнιηg ıllıllı
Points: 66,572, Level: 100
Points: 66,572, Level: 100 Points: 66,572, Level: 100 Points: 66,572, Level: 100
Level up: 0%, 0 Points needed
Level up: 0% Level up: 0% Level up: 0%
Activity: 99%
Activity: 99% Activity: 99% Activity: 99%
★ iK TmaNna La'HasiL c ★
 
I am: Amused
 
Join Date: Feb 2013
Location: ıllıllı noт ғoυnd ıllıllı
Posts: 9,663
Thanks: 3,316
Thanked 1,350 Times in 244 Posts
Mentioned: 720 Post(s)
Tagged: 3133 Thread(s)
Rep Power: 271
Haya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant future
Haya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant futureHaya Fatima has a brilliant future

Awards Showcase
Monthly Competitions Award Monthly Competitions Award award award 
Total Awards: 18

Default

Quote:
Originally Posted by deewan [Only Registered Users Can See LinksClick Here To Register]
اس کام کا طریقہ کار یا لائحہ عمل


گروپ کا قیام
اس کام کی بنیاد گروپ کا قیام ہے۔ یہ گروپ ان ہم خیال لوگوں پر مشتمل ہوگا جو اپنی کوششوں کو اجتماعی شکل دینا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان کی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکیں۔ اس کام کو ملک گیر سطح پر کرنا ہے۔ پاکستان کے ہر ہر حلقے اور ہرہر محلے کی سطح پر گروپ قائم کیے جائیں جو اپنے مقامی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنا طریقہ کار خود طے کریں۔ ایک شہر بلکہ ہر انتخابی حلقے میں متعدد گروپ بھی ہوسکتے ہیں بلکہ ہونے چاہییں جو جہاں تک ہوسکے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ البتہ ہر گروپ اپنے طور پر ایک آزاد حیثیت رکھتا ہو۔ یہ کام البتہ مرکزی نہیں ہوگا اس طور پر کہ اس کا ایک صدر ہو جس کے تحت مختلف عہدے دار ہیں۔
البتہ ایسا واقعہ جس کا اثر قومی سطح پر ہوسکتا ہے اس کے لیے تمام گروپوں کو مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ مثلا کسی حلقے میں انتخابات کے دوران دھاندلی ہوئی اور اس کے کچھ ثبوت بھی سامنے آگئے ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اس کو دیکھا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ گو کہ یہ ایک حلقے میں ہوا لیکن یہ معاملہ اب قومی سطح کا ہے اس لیے کہ اگر اس واقعے کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو اور جگہوں پر بااثر لوگ اسی طرح کی دھاندلی کریں گے۔ بھرپور اثر کے لیے البتہ ضروری ہے کہ سارے پاکستان سے سب گروپ مل کر ایک ہی وقت پر احتجاجی کاروائی کریں تاکہ بات میں وزن پیدا ہو جائے۔
نوٹ:اس قسم کی صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ڈھیلا ڈھالا سا کوئی نظم ہونا چاہیے جو اس قسم کے موقعوں پر ملکی سطح پر کاروائی کو منظم کرسکے۔ یہ کام گو کہ غیرمرکزی ہے لیکن قومی سطح پر اس کو اثرانداز بنانے کے لیے کوئی ایسا نظم ہونا چاہیے جو تمام گروپوں میں رابطے کا کام سرانجام دے تاکہ بوقت ضرورت پاکستان کی سطح پر کوئی کاروائی کرنی ہو تو گروپوں کو متحرک کیا جا سکے۔
1) جیسا کہ بتایا گیا اس کام کی بنیاد گروپ پر ہے۔ گروپ بنانا یا نہ بنانا یہ سب آپ کے حالات پر منحصر ہے۔ البتہ گروپ کا قیام لازمی ہے۔ گروپ کے بغیر یہ کام نہیں چل سکے گا۔
2) اگر علاقے میں پہلے ہی سے کوئی گروپ قائم ہے تو اس کے ساتھ کام کرنا بہتر ہوگا۔ البتہ اگر ہم آہنگی نہ ہو تو اپنا علیحدہ گروپ بنا لیں۔
3) ہر گروپ اپنا دائرہ عمل چنے گا۔ یعنی گروپ کا کام بلدیاتی سطح پر ہوگا یا پارلیمانی سطح پر۔ اس میں بھی گروپ کی توجہ کا مرکز صرف جس علاقے میں وہ گروپ قائم ہے اس کا حلقہ، بلدیاتی، صوبائی یا وفاقی پارلیمان ہی ہوگا۔ البتہ کسی اہم مسئلے پر آپ اپنے دائرہ عمل کو بڑھا سکتے ہیں لیکن یہ ایک وقتی بات ہوگی۔
4) اس گروپ کی ممبرشپ ہر پاکستانی کے لیے کسی امتیاز کے بغیر کھلی ہوئی ہو۔
گروپ میں افراد کی تعداد
5) گروپ میں شامل افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی ضابطہ تو نہیں ہوسکتا لیکن بعض تجربات کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ سات آٹھ مستقل مزاج افراد بھی کام کو لے کر چل سکتے ہیں۔ یہ تعداد البتہ حتمی نہیں ہے۔ بلکہ جتنے لوگ بھی شامل ہوجائیں اچھا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ شامل ہونے والے تو بہت ہوں لیکن اگر کام کو مستقل مزاجی سے کرنے والے سات آٹھ بھی ہوں تو کام نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔ البتہ وہ لوگ جو بہت فعال نہ ہوں ان کو گروپ میں ضرور شامل رکھا جائے اور مشوروں میں ان کو ضرور شامل کیا جائے۔ یہ بھی شراکت کا ایک درجہ ہے۔ اپنے گروپ میں ہر عمر کے آدمی کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تجربے کا کوئی بدل نہیں!
6) گروپ کا ایک لیڈر ضرور ہونا چاہیے جو آپس کے مشورے سے چنا جائے۔ اس سلسلے میں یہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک متعین مدت کے بعد گروپ کے کسی اور ممبر کو لیڈر بننے کا موقع دیا جائے۔ لیکن یہ سب کچھ ہر گروپ کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے۔
7) گروپ لیڈر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے ممبران سے مشورہ کرکے بہتر سے بہتر فیصلہ کرے۔ یاد رہے لیڈر مشورہ لینے کے بعد جو فیصلہ کرے سب لوگوں کو اس کا ماننا ضروری ہے۔
8) باہمی مشورے سے اپنے گروپ کا ایک اچھا سا نام بھی چن لیجیے۔ گروپ کے نام میں اپنے علاقے کا نام بھی کسی طور شامل کریں تاکہ ایک شناخت قائم ہوسکے۔
9) اس گروپ کا تعارف اور اس کے اغراض و مقاصد کو لکھ لیا جائے۔ انتہائی ضروری ہے کہ آپ کے گروپ کے اغراض و مقاصد گنے چنے ہوں تاکہ آپ کی سرگرمیاں محدود دائرے میں رہیں۔ گروپ کے مقاصد بالکل واضح اور متعین ہونے چاہیں۔ آپ جو مقاصد مناسب سمجھتے ہوں ان کو اختیار کریں لیکن یاد رہے کہ ہر گروپ کا ایک بنیادی مقصد اپنے نمائندے کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانا ہے اور اس کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر مجبور کرنا ہے اور یہ پیغام دینا ہے کہ اگر وہ اپنے منصب کے تقاضے پورے نہیں کرے گا تو اس کے دوبارہ انتخاب کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
10) اپنے گروپ کے کچھ بنیادی قواعد بھی طے کرلیں جن کے ذریعے کاموں کو انجام دیا جائےگا۔
11) کچھ لوگوں کو ذمہ دار منتخب کرلیں جن کی ذمہ داریاں بھی طے کرلیں۔کم ازکم ایک یا دو افراد کو گروپ کی تنظیم کا ذمہ دار بنایا جائے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گروپ کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے کسی اور کو ذمہ دار بنایا جائے۔ گروپ کے کسی ممبر کو مزید لوگوں کو شامل کرنے کا ذمہ دار بنایا جائے۔
12) ایک ذمہ دار گروپ کی سرگرمیوں کی رپورٹ لکھنے پر مامور ہونا چاہیے۔
13) گروپ کا ای میل اکاؤنٹ، واٹس ایپ گروپ اور فیس بک پر ایک اکاؤنٹ بنا لینا چاہیے۔ یہی بنیادی طور پر اس گروپ کی شناخت، اس کا دفتر، اس کی سرگرمیوں کے متعلق خبروں کا ذریعہ ہوگا۔ اس کے ذریعے آپ دوسرے لوگوں کو اپنے گروپ میں شمولیت کی دعوت دے سکتے ہیں۔ واٹس ایپ کے ذریعے سے بھی گروپ میں شمولیت کی دعوت دی جاسکتی ہے۔
نوٹ:اسواٹسایپگروپمیںعلاقےسےمتعلقسرگرمیوںکےعلاوہکچھنہبھیجیں۔
14) ایک پمفلٹ کی صورت میں اپنے اغراض و مقاصد لکھ کر کئی کاپیاں بھی کرالیں تاکہ وہ لوگ جو سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے ان تک بھی بات پہنچائی جاسکے۔ یہ پمفلٹ کسی انفرادی ملاقات کے وقت ساتھ لے جانا نہ بھولیے۔
15) یہ گروپ اپنی مدد آپ کے اصول پر چلے گا۔ تمام تر مالی اخراجات ممبران خود اٹھائیں گے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ گروپ کے اخراجات کم از کم حد تک رہیں تاکہ کسی پر بار نہ پڑے۔
16) ہر گروپ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ محلے اور شہر کی سطح پر اپنی سرگرمیوں اور ان کے نتائج سے عام لوگوں کو باخبر رکھے اور ان نتائج پر غور و خوض کرنے کے بعد ان کو آگے کا لائحہ عمل بھی بتائے۔
17) ایک حلقے میں ایک سے زیادہ گروپ ہونے ضروری ہے اس لیے کہ حلقے اتنے بڑے بڑے ہوتے ہیں کہ ایک گروپ کی رسائی ممکن نہیں اس لیے لازمی ہے کہ ایک حلقے میں ایک سے زیادہ خودمختار گروپ ہوں جو اپنے اپنے طور پر کام کریں۔
مقامیکامپرتوجہ
اس کام میں بنیادی نکتہ اپنے مقامی کام پر پوری توجہ مرکوز رکھنا ہے۔ گروپ کی بنیاد پر آپس میں تبادلہ خیال کے ذریعے اپنے کام کو آگے بڑھایا جائے۔گو کہ دوسرے گروپوں سے تبادلہ خیالات بلکہ بعض اوقات مل کر کام کرنے کا بھی موقع آسکتا ہے، لیکن اصل اہمیت اپنے علاقے میں کام کرنا ہے۔ ہم خیال افراد کا ایک مجموعہ بہت سے ایسے کام کرسکتا ہے جو بڑے بڑے گروپ نہیں کرسکتے۔ اس کی مثال گوریلا جنگ کی ہے جہاں چھوٹے چھوٹے گروپ بڑی بڑی فوجوں کی کمر توڑ دیتے ہیں۔
یاد رہے!


· اس کتابچے کا مقصد ملک میں جاری ناانصافی، ظلم، بدعنوانی، اقربا پروری وغیرہ کا خاتمہ ہے لیکن یہ کام نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ محبت اور بھائی چارگی کی بنیاد پر کرنا ہے۔
· اپنی بات دوسروں تک بہترین طریقے سے پہنچائیں۔ جو آپ کی بات سے متفق ہوں وہ آپ کے ہم خیال ہیں۔ جو اس سے متفق نہ ہوں وہ آپ کے دشمن نہیں ہیں۔
· غلط بیانی، جھوٹ سے ہر حال میں بچیں۔
· بداخلاقی سے بچیں کسی کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
· ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، گھیراؤ جلاؤ جیسی سرگرمیاں اس کام کے لیے قطعی مفید نہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال آتا ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے تو فورا رک جائیں۔ ورنہ آپ خیر کی نہیں شر کی مدد کرنے والے ہوجائیں گے۔
· پولیس اور دیگر امن عامہ کے اداروں سے قطعی نہ الجھیں۔ ان کے اختیارات بے حساب ہیں اور ہمارے ملک میں یہ کسی اخلاقی یا قانونی بندشوں سے آزاد ہیں۔ یہی نہیں بلکہ یہ بڑی حد تک نمائندوں کے زیر اثر ہوتے ہیں۔
منتخب نمائندے کیا چاہتے ہیں؟


اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ہمارے منتخب نمائندے یا وہ جو منتخب ہونا چاہتے ہیں کس طرح سوچتے ہیں؟ اس سے ہمیں ان کی نفسیات کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور شعور و آگہی کے اس کام کو آگے بڑھانے اور نتیجے تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
سب سے بنیادی بات جو سمجھنے کی ہے کہ ہر منتخب نمائندہ اس بات کی شدید خواہش رکھتا ہے کہ وہ بار بار منتخب ہوتا رہے۔ ان میں سے ہر ایک کی مستقل سوچ یہی ہوتی ہے کہ کسی طور یہ منصب اس سے نہ چھوٹے۔ اس مقصد کے پیش نظر وہ جھوٹی سچی باتوں سے اپنی ساکھ قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے حلقے کے لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ وہ ان کی خدمت میں ہر وقت مشغول ہیں۔ سوائے چند لوگوں کے ان کی اکثریت کسی فکری نظریے کی پابند نہیں ہے نہ ہی یہ کسی بلند مقصد کے لیے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ بلکہ ان کا واحد مقصد اپنے ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔
یہ لوگ انتخابی مہم کے دوران تو ہر طرح کے وعدے کرتے ہیں جن سے ان کا مقصد ووٹ لینا ہوتا ہے اس کے بعد وہ اپنے حلقے سے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر یہی ہوتا ہےکہ اگلی دفعہ پھر کچھ نئے وعدے کچھ نئے منصبوے پیش کرکے ووٹ لے لیں گے۔
اپنے مفادات کے حصول کے لیے انتخابات میں کامیابی ایک ان پر ایک مستقل دباؤ ہے جس میں یہ رہتے ہیں۔ ان کی اسی فکر کو ان کے خلاف استعمال کرنا ہے۔ وہ اس طرح کہ ان کے دوبارہ انتخاب کا مسئلہ غیریقینی بنا دیا جائے تو وہ یقینا اپنی سوچ اور عمل کو بدلنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ان کو یہ باور کرا دینا ہے کہ تم ہمارے نمائندے ہو اور تم کو ہمارے مسائل کے حل کے لیے کام کرنا ہے بصورت دیگر ان تک یہ پیغام صاف صاف پہنچا دینا ہے کہ تمہارا دوبارہ منتخب ہونا ناممکن ہوگا۔ اس کا ایک ہی طریقہ کار ہے وہ یہ کہ ہر پاکستانی کو سمجھانا ہے کہ وہ اپنا ووٹ بہت سوچ سمجھ کر استعمال کرے کیونکہ اس کا ووٹ صرف اسی پر اثرانداز نہیں ہوتا بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔
یہ بات ذہن میں واضح رہے کہ ہماری سیاسی قیادت میں جو لوگ شامل ہیں ان میں کئی اپنے اپنے حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔ گو کہ یہ لوگ اپنے علاقوں کے لوگوں کو کچھ نہیں دیتے لیکن اپنے وسائل کی کثرت، سیاسی چمک اور برادری کی لپک اور عمومی جہالت کو استعمال کرتے ہیں اور بار بار منتخب ہوجاتے ہیں۔ لیکن امید کی کرن شوشل میڈیا کا عام استعمال ہے جو اب ہر پڑھے لکھے اور ان پڑھ شخص کی دسترس میں ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ ان لوگوں کو بھی شعور اور آگہی دی جاسکتی ہے۔
اس بات کو ذہن سے نکال دیں کہ اگر وہ نمائندہ ایک ایسے حلقے سے منتخب ہوا ہے جو اس کے خاندان یا پارٹی کا گڑھ ہے تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس کے حلقے والے اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ درحقیقت ذرائع ابلاغ نے عام سطح پر اس قدر شعور پیدا کردیا ہے کہ اب ہر پاکستانی کسی نہ کسی درجے میں اپنے حقوق کا احساس کرنے لگا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس احساس کو پختہ کیا جائے اور اسے ایک مستقل قوت کی شکل دے دی جائے۔ اس کتابچے میں دیے گئے لائحہ عمل کا یہی مقصد ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں


یہ بات ذہن میں رہے کہ جو لوگ اس وقت پاکستان کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں ان کے نزدیک ان کے مفاد سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اس کو حاصل کرنے کے لیے وہ کسی حد تک بھی جانے کے لیے تیار ہیں۔ حکومت اور اس کے تمام ادارے ان کے گھر کی باندی بنے ہوئے ہیں۔ آپ کا ان کی سرگرمیوں کا ڈھول بجانا ان کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوگی جس سے ان کے منصب کو خطرہ درپیش ہوسکتا ہے اور وہ شدید رد عمل کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ ان سے نمٹنا آسان نہیں۔ اسی لیے اس کتابچے میں بار بار اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ ٹکراؤ سے بچنا ضروری ہے۔ اس مفاد پرست ٹولے سے نمٹنے کے لیے دو ہتھیار انتہائی کارگر ہوں گے۔
· سوشل میڈیا کا استعمال جس کے ذریعے سے آپ بغیر ٹکراؤ کے بھی اپنی بات پیش کرسکتے ہیں۔
· اپنی بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا جو پہلے ہتھیار یعنی سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپور طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔
ہم اکثریت میں ہیں! مفاد پرست طبقہ بہت تھوڑا ہے۔ اپنا پیغام محبت اور حکمت سے دیں۔ ان شاءاللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
میں اپنے گروپ میں لوگوں کو کیسے شامل کروں؟


اوپر دئیے ہوئے طریقہ کار کے مطابق گروپ قائم کرنے کے لیے افراد کو اکٹھا کرنا ایک لازمی کام ہوگا۔ لوگوں کو کسی کام پر ابھارنے کے لیے ان سے انفرادی رابطہ بے حد ضروری ہے۔ذیل میں چند نکات ہیں جو آپ انفرادی ملاقات میں پیش کرسکتے ہیں جو امید ہے کہ لوگوں کو گروپ میں شمولیت پر آمادہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
· آپ کے گروپ کے مقاصد کے علاوہ ان مسائل کا تذکرہ جن سے علاقے کے لوگوں کو سامنا ہے لوگوں کو آپ کا ساتھ دینے پر ابھار سکتا ہے۔ لوگ اسی وقت کسی کام میں دلچسپی لیتے ہیں جب ان کو اس میں اپنا کا کوئی ذاتی فائدہ نظر آتا ہے۔
· آپ کس طرح اپنے نمائندے کی توجہ علاقے کے مسائل کی طرف دلانا چاہتے ہیں اور ان کے حل کے لیے آپ کے ذہن میں کیا تجاویز ہیں ان کا تذکرہ کرنے سے بھی لوگ آپ کا ساتھ دینے پر رضامند ہوسکتے ہیں۔
· اپنی گفتگو کے ساتھ ان کی بات کو بھی پوری توجہ سے سنیں۔ بلکہ کوشش کریں کہ زیادہ وقت ان کی بات سنیں تاکہ ان کی سوچ اور فکر آپ کو پتہ چل سکے۔
· اپنے گروپ کے مقاصد کا پمفلٹ بھی ملاقات کے وقت پیش کرنا چاہیے۔ بعض اوقات انسان فوری فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا اس لیے ممکن ہے کہ وہ بعد میں کسی وقت پمفلٹ کو پڑھ کر آپ کا ساتھ دینے پر راضی ہوجائے۔
· ملاقات کے ایک دو دن بعد موبائل پر رابطہ کرکے ان کو دوبارہ گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔
یہاں اس بات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی آپ کو ملے گی جو آپ کے کام سے متفق ہوں گے لیکن اپنی ذاتی وجوہات کی وجہ سے عملی طور پر گروپ میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کو آپ متفق کہہ سکتے ہیں۔ ان سے اتنی اجازت ضرور لے لیں کہ آپ ان کا نام اپنے واٹس ایپ گروپ میں شامل کرلیں۔ ایسے لوگوں کو کم اہم نہ سمجھیں، یہ خاموش اکثریت بہت کام کی ہوتی ہے۔
(جاری ہے)
Achi tehreer hy
__________________
CominG soOoOoOoOoN
Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
, کی, کیسے, , , کریں؟3, تفصیل, سیاسی, شعور, طریقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump


All times are GMT. The time now is 12:34 PM.


Skin and Styling by [ Achi Dosti ] TheMask & Emaan
All Rights Reserved © www.achidosti.com
Aapka apna Urdu 

Forum

Disclaimer: All material on the forum (AchiDosti.Com) is provided for informative and/ or entertainment purposes only. None of the files shown here are actually hosted or transmitted by this server the links are provided solely by this site's users. All copyrighted material belongs to the copyright holders. If you find any of your copyrighted material on this site and you would like it to be removed, please Contact us and it will be removed promptly.