Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.comAap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com
  Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com
Register Achi Dosti VideosInvite Your Friends FAQ Calendar Search Today's Posts Mark Forums Read


Home Today's Posts
Go Back   Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com > Entertainment Balcony > Chit Chat & A.D Games > Famous People Interviews


User Tag List

Reply
 
Thread Tools Display Modes
  #1  
Old 12-16-2011, 06:03 PM
Cute's Avatar
Cute Cute is offline
Special Member
Points: 3,160, Level: 34
Points: 3,160, Level: 34 Points: 3,160, Level: 34 Points: 3,160, Level: 34
Level up: 74%, 40 Points needed
Level up: 74% Level up: 74% Level up: 74%
Activity: 0%
Activity: 0% Activity: 0% Activity: 0%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Oct 2011
Posts: 2,732
Thanks: 865
Thanked 47 Times in 9 Posts
Mentioned: 1 Post(s)
Tagged: 1198 Thread(s)
Rep Power: 107
Cute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished road
Cute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished road
pencil سب مل کر پاکستان کی اُمید بنو ، تعمیر کرو

شائستہ اطوار اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والے سید ۱۶، ۱۷؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو لاہور کی نامور علمی درسگاہ جامعہ پنجاب میں ایک بہت بڑے اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اس کو اجتماعِ عام کہا جاتا رہا ہے لیکن یہ اجتماع سے زیادہ ایک بہت بڑا تعلیمی میلا تھا۔ چترال سے لے کر کراچی تک ملک کے ہر گوشے سے نوجوان طلباء ’’امید بنو تعمیر کرو سب مل کر پاکستان کی‘‘ عملی تعبیر بن کر اس بستی میں موجود تھے۔ تعلیمی میلا اس لیے تھا کہ یہ اپنے دامن میں تعلیمی سیشن، بین الاقوامی تعلیمی نمائش۔ کتاب میلہ، سائنس میلہ، سافٹ ویئر میلہ، تعلیمی سرگرمیاں، اسکل ٹریننگ ورکشاپس، کیریئر کونسلنگ، کوئز، تقاریر، سیمینارز، روبرو، مشاعرہ، اسٹیج ڈرامہ (تاریخ پاکستان)، عملی و فکری مذاکرے اور شائنگ سٹار کیمپ اور بیت بازی کے مقابلے اپنے دامن میں سموئے ہوئے شدت پسندی، دہشت گردی، انتہا پسندی، کرپشن سمیت دیگر دل آزردہ کر دینے والے حالات میں امید پاکستان ملین مارچ کی کرن بھی اپنے آنگن میں لیے ہوئے تھا۔

اِس خوبصورت بستی نے ایسا منظر پیش کیا کہ یوں لگا کہ نسلِ نو ایک پرچم تلے جمع ہے۔ نیشنل سیشن کے نام سے پروگراموں کا طویل سلسلہ تھا کہ جس میں تمام دینی، سیاسی و دیگر جماعتوں کے قائدین کو طلبہ سے ہم کلام ہونے کی دعوت دی گئی ۔ شیخ رشید سے لے کر جہانگیر بدر تک، صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر، حافظ عاکف سعید سے قاضی حسین احمد، سید منور حسن ،لیاقت بلوچ، سراج الحق، نعمت اﷲ، محمد حسین محنتی، اسد اﷲ بھٹو اور ڈاکٹر سید وسیم اختر تک سیاسی راہ نماؤں نے طلبہ سے خطاب کیا۔تمام طلبہ تنظیموں، سماجی رہنماؤں، ادیبوں، اساتذہ، دانشوروں کی ایک لمبی فہرست ہے جنھوں نے اِس موقع پر اظہارِ خیال کیا۔

دوسری طرف بین الاقوامی سیشن کا کامیاب انعقاد تھا جس میں نیل کے ساحلوں سے لے کر کاشغر کی بلندیوں سے اُمت مسلمہ کے راہ نما آئے ہوئے تھے۔ ترکی کی سعادت پارٹی کے صدر،موتمرعالمی اسلامی کے نمائندے، مصر سے اخوان المسلمون کا وفد، سری لنکا کے اسلامی پارٹی کے صدر، چین، افغانستان اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے غیر ملکی طلبہ کی ایک بڑی تعداد،کویت سے یوسف القرضاوی اور مقبوضہ کشمیر سے سید علی گیلانی، ویڈیو کال کے ذریعے پُراُمید طلبہ تک اپنے خیالات پہنچا رہے تھے۔

اُمید، تعمیر اور تکمیل کے اس پیغام کو ہر طبقہ ہائے زندگی و فکر نے پاکستان کی نئی صبح کہتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ اس مختلف و منفرد نوعیت کی تین دن کی اس تعلیمی و امیدی بستی کے روح رواں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ہزاروں اراکین سے لے کر رفقاء و کارکنان تھے۔

الحمدللّٰہ! یہ پروگرام اس وقت کی ضرورت تھا اور اللّٰہ کی مدد، جمعیت کے کارکنوں کی محنت اور بڑے غوروخوض کے بعد ہم نے اس نکتے کو اپنایا، اصل میں سکول کے طالب علم سے لے کر کالج یونیورسٹی کے طالب علم تک لوگ اپنی شناخت کے بارے میں ہی بات کرنے میں ہچکچاتے تھے۔ بے یقینی اور انتشار کی سی کیفیت تھی۔ جس سے نکلنے کے لیے اس طرح کی بڑی سرگرمی کی ضرورت تھی۔ یہ حال صرف طلبا تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ معاشرہ کا ہر فرد ملکی حالات سے مایوس تھا، اسی لیے اسلامی جمعیت طلبہ کی مرکزی مجلسِ شوریٰ نے سال ۲۰۱۱ء کے اوائل میں ہی اس کا فیصلہ کیا اور پھر پوری ٹیم اس میں ہمہ تن مصروف عمل ہوگئی۔

اللّٰہ کا شکر ہے کہ توقع سے بڑھ کر ہمیں کامیابی ملی۔ ہمارے پاس اجتماعِ عام میں جو طالب علم باقاعدہ اپنے تین روزہ خرچ کے اخراجات جمع کروا کر رجسٹرڈ ہوئے ان کی تعداد ۶۲؍ہزار ہے۔ اسی طرح ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو رجسٹرڈ نہیں ہوئی۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر پروگراموں میں شریک ہوتی رہی ۔ اِس پروگرام سے قبل ہم نے ملک بھر میں قریباً ۲۰؍لاکھ طلبہ سے اُمیدوتکمیل پاکستان کا تحریری عہد لیا۔ اس تین روزہ بستی میں بڑی سطح پر علمی سرگرمیاں ہوئیں۔ ۲۲؍غیر ملکی یونیورسٹیوں نے اس میں شرکت کی۔ تین بڑی نمائشوں کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ایک پاکستان کی تاریخ، دوسری جمعیت کی تاریخ اور تیسری کشمیر کے متعلق نمائش تھی۔ پورے ملک سے ہم نے شائنگ سٹارز کیمپ اورٹیلنٹ گالوں کے ذریعے طلبہ کو اکٹھا کیا۔ اس میں سندھ کے دوردراز کے دیہات سے لے کر خیبر کے پہاڑی بستیوں کے مکین طلبہ کو بلاامتیاز اور میرٹ کی بنیاد پر نقد اور دیگر انعامات سے نوازا گیا۔ اس میں ہر تعلیمی شعبے میں ہم نے طلبہ کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے سائنسی پروجیکٹس، نمائش اور دیگر مقابلہ جات کروائے ، اس میں ۱۴؍یونیوسٹیوں کے طلبہ نے شرکت کی اور اول پوزیشن یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے طلبہ نے حاصل کی۔ اس سرگرمی کو ہم نے طالبات کے لیے بھی کیا اور پورے پاکستان سے باون طالبات مختلف مقابلہ جات میں کامیاب ہوکر آئیں اور وہ تین دن اس پروگرام میں شریک ہوئیں۔ جن کے لیے علیٰحدہ سے آڈیٹوریم بنوایا گیا تھا اور عام طالب علموں کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ پہلی سرگرمی دیکھی ہے جہاں اسلام کے ساتھ تعمیر اور تعلیم بھی موجود ہے۔ یوں یہ اپنی سطح کی ایک نئی جہت ہے۔

عام آدمی کو ملک کی بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے ایسی بڑی سرگرمی کے لیے ہم پہلی بوندبنے اور اب سیاسی جماعتیں بھی خوف کے سائے سے باہر نکلیں ہیں اور ریلیاں اور جلسے منعقد کر رہی ہیں، ورنہ تو لوگ بڑے پروگرام کرنا بھول گئے تھے۔ ہم نے اس سرگرمی کے لیے ۱۷، ۱۸ دن ’’امید پاکستان کارواں‘‘ چترال کی وادیوں سے کراچی کے ساحل تک چلایا۔ میں نے اس میں خود شرکت کی۔ اس میں ایسے ایسے واقعات پیش آئے کہ یہ ثابت ہوا کہ یہ قوم محبت کی کس قدر حقدار ہے۔

اُمیدِ پاکستان کارواں کے دوران ہم سندھ کے ایک دوردراز علاقے رتو ڈیرو میں رات ساڑھے نو بجے پہنچے۔ دیر ہوگئی تھی۔ لگ رہاتھا کوئی نہیں آیا ہوگا لیکن ۴۰۰ سے زائد لوگ بیٹھے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ یہی حال ۱۱بجے نوڈیرو پہنچنے پر نظر آیا۔ اسی طرح قنبر کے دوردراز دیہات میں ہم فجر کی نماز میں ایک مسجد میں گئے۔ تو ایک آدمی نے نماز کے بعد سندھی میں کہا کہ یہ مہمان ہیں اور سب نمازی چلے گئے اور ہم اکیلے۔ بیس منٹ بعد وہ سب ہمیں لینے آئے اور غربت زدہ اس علاقے میں ایک لمبا دسترخوان ہمارا منتظر تھا۔

گزشتہ دس سال سے اور خاص کر پرویز مشرف کے دور میں لبرل ازم کو باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پروان چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے اور جمعیت اس کے سامنے سب سے بری رکاوٹ ہے۔ آج پورے پاکستان میں نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو وہ اسلام پسندوں کا ہی ہوتا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ صرف ایک تنظیم نہیں یہ توپاکستان کی بنیاد اور پاکستان کی محبت ہے۔ یہ تو طلبہ کو نکھار کر ملک و ملت کی خدمت کے لیے تیار کرتی ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ طلبہ یونین کے بعد ساری تنظیمیں مٹ گئی ہیں لیکن جمعیت نہیں، اس کی وجہ حب الوطنی اور اسلام پسندی ہے اور اس لیے سیاسی راہنما اور جماعتیں بھی اس عنصر کو استعمال کرتی ہیں۔ اس وقت پروپیگنڈے کی فضا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ میڈیا کیسے کالے کو سفید اور سفید کو کالا کرتا ہے۔ اس کی مثال ہمارے اس اجتماع کی بھی ہے۔ ۶۲؍ہزار سے زاید شرکاء کے اجتماع کا تقریباً بلیک آؤٹ کیا گیا ۔ کارڈ ، سیاسی نعرے اور سرگرمیاں نہیں تھیں، تعمیری کام ہو رہا تھا۔ میڈیا نے اس میں ایک فریق مخالف کا کردار ادا کیا اور اس کے بعد سیاسی جماعتوں نے جو سرگرمیاں کیں اس کے بارے میں ذرائع ابلاغ کا رویہ بھی آپ کے سامنے ہے۔

جمعیت نے اپنے اندرونی احتساب اور تربیت کے نظام کو ہمیشہ بیدار رکھا اور ہر دور میں ہم سے اگر کوئی غلطی یا خامی ہوئی تو ہم نے اسے تسلیم کرتے ہوئے فوری اس کی تصحیح کی ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا اور ڈھالا ہے۔ اب ہم نے آیندہ تعمیر سازی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ جس میں دیگر سرگرمیوں کے علاوہ بڑا قدم انٹرنیشنل لائبریری کا لاہور میں قیام ہے۔ اس کے تحت ہی ہم اسکالرشپ، ٹریننگ ورکشاپ اور دیگر علمی سرگرمیوں کا اجراء کررہے ہیں۔ جمعیت کسی دور میں بھی اپنی ذمے داریوں سے پیچھے نہیں رہی۔ پرویزمشرف کے ۱۰؍ سالہ دور میں جب مارشل لا نما ملفوفہ سامنے آیا ایسے میں سیاسی جماعتوں اور ہر طبقہ ہائے فکر کو سانپ سونگھ گیا تھا اور کچھ لوگ اس کے آنے کی مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔ جمعیت نے اس کے خلاف آواز اٹھائی، امریکہ کی پاکستانی اداروں میں مداخلت پر ۲۰۰۱ء میں سب سے پہلے ’’سیکولر بے دین نہ بننے دیں گے پاکستان کو‘‘ کے نام سے ہم نے آواز بلند کی۔ افغانستان میں امریکی حملے کے اوپر ’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘‘ کی صدا بلند کی۔ آغا خاں بورڈ، نصاب کی تبدیلی، یونیورسٹی آرڈیننس اور شمس قاسم لاکھا کی تجاویز کے خلاف ’’تعلیم بچائو ملک بچائو‘‘ کا سلوگن دیا۔ اس سب کی بنا پر ہم ریکارڈ پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مشرف کی پہلی اینٹ ہلانے والی جمعیت ہے۔

بعض اقدامات میں ان کو پسپا بھی کیا۔ جمعیت بہرحال طلبہ تنظیم ہے اس کی اپنی استطاعت اور حدد میں۔

الحمدللّٰہ! ہم نے اِس اجتماع سے ۸۵؍ فیصد اہداف حاصل کیے اورماضی کی طرح اب بھی پاکستان کو بحران سے نکالنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔



__________________
Reply With Quote
The Following User Says Thank You to Cute For This Useful Post:
Ranii (04-07-2013)
  #2  
Old 02-10-2014, 08:28 AM
~snow~'s Avatar
~snow~ ~snow~ is offline
Member
Points: 11,612, Level: 70
Points: 11,612, Level: 70 Points: 11,612, Level: 70 Points: 11,612, Level: 70
Level up: 91%, 38 Points needed
Level up: 91% Level up: 91% Level up: 91%
Activity: 1%
Activity: 1% Activity: 1% Activity: 1%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Jan 2013
Posts: 329
Thanks: 36
Thanked 10 Times in 2 Posts
Mentioned: 0 Post(s)
Tagged: 263 Thread(s)
Rep Power: 42
~snow~ is on a distinguished road~snow~ is on a distinguished road~snow~ is on a distinguished road~snow~ is on a distinguished road~snow~ is on a distinguished road
Default

Quote:
Originally Posted by Amber1 [Only Registered Users Can See LinksClick Here To Register]
شائستہ اطوار اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والے سید ۱۶، ۱۷؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو لاہور کی نامور علمی درسگاہ جامعہ پنجاب میں ایک بہت بڑے اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اس کو اجتماعِ عام کہا جاتا رہا ہے لیکن یہ اجتماع سے زیادہ ایک بہت بڑا تعلیمی میلا تھا۔ چترال سے لے کر کراچی تک ملک کے ہر گوشے سے نوجوان طلباء ’’امید بنو تعمیر کرو سب مل کر پاکستان کی‘‘ عملی تعبیر بن کر اس بستی میں موجود تھے۔ تعلیمی میلا اس لیے تھا کہ یہ اپنے دامن میں تعلیمی سیشن، بین الاقوامی تعلیمی نمائش۔ کتاب میلہ، سائنس میلہ، سافٹ ویئر میلہ، تعلیمی سرگرمیاں، اسکل ٹریننگ ورکشاپس، کیریئر کونسلنگ، کوئز، تقاریر، سیمینارز، روبرو، مشاعرہ، اسٹیج ڈرامہ (تاریخ پاکستان)، عملی و فکری مذاکرے اور شائنگ سٹار کیمپ اور بیت بازی کے مقابلے اپنے دامن میں سموئے ہوئے شدت پسندی، دہشت گردی، انتہا پسندی، کرپشن سمیت دیگر دل آزردہ کر دینے والے حالات میں امید پاکستان ملین مارچ کی کرن بھی اپنے آنگن میں لیے ہوئے تھا۔

اِس خوبصورت بستی نے ایسا منظر پیش کیا کہ یوں لگا کہ نسلِ نو ایک پرچم تلے جمع ہے۔ نیشنل سیشن کے نام سے پروگراموں کا طویل سلسلہ تھا کہ جس میں تمام دینی، سیاسی و دیگر جماعتوں کے قائدین کو طلبہ سے ہم کلام ہونے کی دعوت دی گئی ۔ شیخ رشید سے لے کر جہانگیر بدر تک، صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر، حافظ عاکف سعید سے قاضی حسین احمد، سید منور حسن ،لیاقت بلوچ، سراج الحق، نعمت اﷲ، محمد حسین محنتی، اسد اﷲ بھٹو اور ڈاکٹر سید وسیم اختر تک سیاسی راہ نماؤں نے طلبہ سے خطاب کیا۔تمام طلبہ تنظیموں، سماجی رہنماؤں، ادیبوں، اساتذہ، دانشوروں کی ایک لمبی فہرست ہے جنھوں نے اِس موقع پر اظہارِ خیال کیا۔

دوسری طرف بین الاقوامی سیشن کا کامیاب انعقاد تھا جس میں نیل کے ساحلوں سے لے کر کاشغر کی بلندیوں سے اُمت مسلمہ کے راہ نما آئے ہوئے تھے۔ ترکی کی سعادت پارٹی کے صدر،موتمرعالمی اسلامی کے نمائندے، مصر سے اخوان المسلمون کا وفد، سری لنکا کے اسلامی پارٹی کے صدر، چین، افغانستان اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے غیر ملکی طلبہ کی ایک بڑی تعداد،کویت سے یوسف القرضاوی اور مقبوضہ کشمیر سے سید علی گیلانی، ویڈیو کال کے ذریعے پُراُمید طلبہ تک اپنے خیالات پہنچا رہے تھے۔

اُمید، تعمیر اور تکمیل کے اس پیغام کو ہر طبقہ ہائے زندگی و فکر نے پاکستان کی نئی صبح کہتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ اس مختلف و منفرد نوعیت کی تین دن کی اس تعلیمی و امیدی بستی کے روح رواں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ہزاروں اراکین سے لے کر رفقاء و کارکنان تھے۔

الحمدللّٰہ! یہ پروگرام اس وقت کی ضرورت تھا اور اللّٰہ کی مدد، جمعیت کے کارکنوں کی محنت اور بڑے غوروخوض کے بعد ہم نے اس نکتے کو اپنایا، اصل میں سکول کے طالب علم سے لے کر کالج یونیورسٹی کے طالب علم تک لوگ اپنی شناخت کے بارے میں ہی بات کرنے میں ہچکچاتے تھے۔ بے یقینی اور انتشار کی سی کیفیت تھی۔ جس سے نکلنے کے لیے اس طرح کی بڑی سرگرمی کی ضرورت تھی۔ یہ حال صرف طلبا تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ معاشرہ کا ہر فرد ملکی حالات سے مایوس تھا، اسی لیے اسلامی جمعیت طلبہ کی مرکزی مجلسِ شوریٰ نے سال ۲۰۱۱ء کے اوائل میں ہی اس کا فیصلہ کیا اور پھر پوری ٹیم اس میں ہمہ تن مصروف عمل ہوگئی۔

اللّٰہ کا شکر ہے کہ توقع سے بڑھ کر ہمیں کامیابی ملی۔ ہمارے پاس اجتماعِ عام میں جو طالب علم باقاعدہ اپنے تین روزہ خرچ کے اخراجات جمع کروا کر رجسٹرڈ ہوئے ان کی تعداد ۶۲؍ہزار ہے۔ اسی طرح ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو رجسٹرڈ نہیں ہوئی۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر پروگراموں میں شریک ہوتی رہی ۔ اِس پروگرام سے قبل ہم نے ملک بھر میں قریباً ۲۰؍لاکھ طلبہ سے اُمیدوتکمیل پاکستان کا تحریری عہد لیا۔ اس تین روزہ بستی میں بڑی سطح پر علمی سرگرمیاں ہوئیں۔ ۲۲؍غیر ملکی یونیورسٹیوں نے اس میں شرکت کی۔ تین بڑی نمائشوں کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ایک پاکستان کی تاریخ، دوسری جمعیت کی تاریخ اور تیسری کشمیر کے متعلق نمائش تھی۔ پورے ملک سے ہم نے شائنگ سٹارز کیمپ اورٹیلنٹ گالوں کے ذریعے طلبہ کو اکٹھا کیا۔ اس میں سندھ کے دوردراز کے دیہات سے لے کر خیبر کے پہاڑی بستیوں کے مکین طلبہ کو بلاامتیاز اور میرٹ کی بنیاد پر نقد اور دیگر انعامات سے نوازا گیا۔ اس میں ہر تعلیمی شعبے میں ہم نے طلبہ کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے سائنسی پروجیکٹس، نمائش اور دیگر مقابلہ جات کروائے ، اس میں ۱۴؍یونیوسٹیوں کے طلبہ نے شرکت کی اور اول پوزیشن یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے طلبہ نے حاصل کی۔ اس سرگرمی کو ہم نے طالبات کے لیے بھی کیا اور پورے پاکستان سے باون طالبات مختلف مقابلہ جات میں کامیاب ہوکر آئیں اور وہ تین دن اس پروگرام میں شریک ہوئیں۔ جن کے لیے علیٰحدہ سے آڈیٹوریم بنوایا گیا تھا اور عام طالب علموں کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ پہلی سرگرمی دیکھی ہے جہاں اسلام کے ساتھ تعمیر اور تعلیم بھی موجود ہے۔ یوں یہ اپنی سطح کی ایک نئی جہت ہے۔

عام آدمی کو ملک کی بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے ایسی بڑی سرگرمی کے لیے ہم پہلی بوندبنے اور اب سیاسی جماعتیں بھی خوف کے سائے سے باہر نکلیں ہیں اور ریلیاں اور جلسے منعقد کر رہی ہیں، ورنہ تو لوگ بڑے پروگرام کرنا بھول گئے تھے۔ ہم نے اس سرگرمی کے لیے ۱۷، ۱۸ دن ’’امید پاکستان کارواں‘‘ چترال کی وادیوں سے کراچی کے ساحل تک چلایا۔ میں نے اس میں خود شرکت کی۔ اس میں ایسے ایسے واقعات پیش آئے کہ یہ ثابت ہوا کہ یہ قوم محبت کی کس قدر حقدار ہے۔

اُمیدِ پاکستان کارواں کے دوران ہم سندھ کے ایک دوردراز علاقے رتو ڈیرو میں رات ساڑھے نو بجے پہنچے۔ دیر ہوگئی تھی۔ لگ رہاتھا کوئی نہیں آیا ہوگا لیکن ۴۰۰ سے زائد لوگ بیٹھے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ یہی حال ۱۱بجے نوڈیرو پہنچنے پر نظر آیا۔ اسی طرح قنبر کے دوردراز دیہات میں ہم فجر کی نماز میں ایک مسجد میں گئے۔ تو ایک آدمی نے نماز کے بعد سندھی میں کہا کہ یہ مہمان ہیں اور سب نمازی چلے گئے اور ہم اکیلے۔ بیس منٹ بعد وہ سب ہمیں لینے آئے اور غربت زدہ اس علاقے میں ایک لمبا دسترخوان ہمارا منتظر تھا۔

گزشتہ دس سال سے اور خاص کر پرویز مشرف کے دور میں لبرل ازم کو باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پروان چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے اور جمعیت اس کے سامنے سب سے بری رکاوٹ ہے۔ آج پورے پاکستان میں نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو وہ اسلام پسندوں کا ہی ہوتا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ صرف ایک تنظیم نہیں یہ توپاکستان کی بنیاد اور پاکستان کی محبت ہے۔ یہ تو طلبہ کو نکھار کر ملک و ملت کی خدمت کے لیے تیار کرتی ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ طلبہ یونین کے بعد ساری تنظیمیں مٹ گئی ہیں لیکن جمعیت نہیں، اس کی وجہ حب الوطنی اور اسلام پسندی ہے اور اس لیے سیاسی راہنما اور جماعتیں بھی اس عنصر کو استعمال کرتی ہیں۔ اس وقت پروپیگنڈے کی فضا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ میڈیا کیسے کالے کو سفید اور سفید کو کالا کرتا ہے۔ اس کی مثال ہمارے اس اجتماع کی بھی ہے۔ ۶۲؍ہزار سے زاید شرکاء کے اجتماع کا تقریباً بلیک آؤٹ کیا گیا ۔ کارڈ ، سیاسی نعرے اور سرگرمیاں نہیں تھیں، تعمیری کام ہو رہا تھا۔ میڈیا نے اس میں ایک فریق مخالف کا کردار ادا کیا اور اس کے بعد سیاسی جماعتوں نے جو سرگرمیاں کیں اس کے بارے میں ذرائع ابلاغ کا رویہ بھی آپ کے سامنے ہے۔

جمعیت نے اپنے اندرونی احتساب اور تربیت کے نظام کو ہمیشہ بیدار رکھا اور ہر دور میں ہم سے اگر کوئی غلطی یا خامی ہوئی تو ہم نے اسے تسلیم کرتے ہوئے فوری اس کی تصحیح کی ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا اور ڈھالا ہے۔ اب ہم نے آیندہ تعمیر سازی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ جس میں دیگر سرگرمیوں کے علاوہ بڑا قدم انٹرنیشنل لائبریری کا لاہور میں قیام ہے۔ اس کے تحت ہی ہم اسکالرشپ، ٹریننگ ورکشاپ اور دیگر علمی سرگرمیوں کا اجراء کررہے ہیں۔ جمعیت کسی دور میں بھی اپنی ذمے داریوں سے پیچھے نہیں رہی۔ پرویزمشرف کے ۱۰؍ سالہ دور میں جب مارشل لا نما ملفوفہ سامنے آیا ایسے میں سیاسی جماعتوں اور ہر طبقہ ہائے فکر کو سانپ سونگھ گیا تھا اور کچھ لوگ اس کے آنے کی مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔ جمعیت نے اس کے خلاف آواز اٹھائی، امریکہ کی پاکستانی اداروں میں مداخلت پر ۲۰۰۱ء میں سب سے پہلے ’’سیکولر بے دین نہ بننے دیں گے پاکستان کو‘‘ کے نام سے ہم نے آواز بلند کی۔ افغانستان میں امریکی حملے کے اوپر ’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘‘ کی صدا بلند کی۔ آغا خاں بورڈ، نصاب کی تبدیلی، یونیورسٹی آرڈیننس اور شمس قاسم لاکھا کی تجاویز کے خلاف ’’تعلیم بچائو ملک بچائو‘‘ کا سلوگن دیا۔ اس سب کی بنا پر ہم ریکارڈ پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مشرف کی پہلی اینٹ ہلانے والی جمعیت ہے۔

بعض اقدامات میں ان کو پسپا بھی کیا۔ جمعیت بہرحال طلبہ تنظیم ہے اس کی اپنی استطاعت اور حدد میں۔

الحمدللّٰہ! ہم نے اِس اجتماع سے ۸۵؍ فیصد اہداف حاصل کیے اورماضی کی طرح اب بھی پاکستان کو بحران سے نکالنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔



FFA AD Alphabet
Reply With Quote
  #3  
Old 11-14-2017, 10:15 AM
Mindful's Avatar
Mindful Mindful is offline
Senior Member
Points: 1,642, Level: 23
Points: 1,642, Level: 23 Points: 1,642, Level: 23 Points: 1,642, Level: 23
Level up: 43%, 58 Points needed
Level up: 43% Level up: 43% Level up: 43%
Activity: 100%
Activity: 100% Activity: 100% Activity: 100%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Oct 2017
Posts: 635
Thanks: 1
Thanked 24 Times in 16 Posts
Mentioned: 1 Post(s)
Tagged: 0 Thread(s)
Rep Power: 13
Mindful is on a distinguished roadMindful is on a distinguished roadMindful is on a distinguished roadMindful is on a distinguished roadMindful is on a distinguished road
Default

Khoob
Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
, کی, , , , , ،, , اُمید, , , تعمیر, ,


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump


All times are GMT. The time now is 02:49 AM.


Skin and Styling by [ Achi Dosti ] TheMask & Emaan
All Rights Reserved © www.achidosti.com
Aapka apna Urdu 

Forum

Disclaimer: All material on the forum (AchiDosti.Com) is provided for informative and/ or entertainment purposes only. None of the files shown here are actually hosted or transmitted by this server the links are provided solely by this site's users. All copyrighted material belongs to the copyright holders. If you find any of your copyrighted material on this site and you would like it to be removed, please Contact us and it will be removed promptly.