Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.comAap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com
  Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com
Register Achi Dosti VideosInvite Your Friends FAQ Calendar Search Today's Posts Mark Forums Read


Home Today's Posts
Go Back   Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com > Pakistan And Current Affairs > General Knowledge


User Tag List

Reply
 
Thread Tools Display Modes
  #1  
Old 12-21-2017, 11:54 PM
intelligent086's Avatar
intelligent086 intelligent086 is online now
Co-Admin
Points: 673,423, Level: 100
Points: 673,423, Level: 100 Points: 673,423, Level: 100 Points: 673,423, Level: 100
Level up: 0%, 0 Points needed
Level up: 0% Level up: 0% Level up: 0%
Activity: 100%
Activity: 100% Activity: 100% Activity: 100%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Dec 2013
Location: لاہور، پاکستان
Posts: 55,500
Thanks: 4,115
Thanked 12,248 Times in 6,966 Posts
Mentioned: 3364 Post(s)
Tagged: 6345 Thread(s)
Rep Power: 1167
intelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud of
intelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud of

Awards Showcase
Winner Of IT Monthly Competitions Award Member of the Month(Male) Member of the Month(Male) 
Total Awards: 31

Default سرسید اور انتخاب

سرسید اور انتخاب


جاوید اقبال
سرسیّد احمد خان نے ایک مخصوص انقلابیت کی وکالت کی۔ کہہ لیجیے، وکٹوریائی انقلابیت کی بجائے اسلامی انقلابیت کو ترجیح دی، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ نظریے کی محض علمی نوعیت کی ترجمانی تھی۔ غدر (1857ئ)کے بعد مسلم اشرافیہ کی تباہی سے وہ بہت رنجیدہ رہتے تھے اور بچے کھچے اشراف کی تعیش پسندی اور فضول خرچیوں پر کڑھتے رہتے تھے۔ جب وہ وائسرائے کی قانون سازکونسل (1878ء تا1882ئ) کے رکن تھے تو انھوں نے ایک مسودہ قانونِ وقفِ خاندانی کے نام سے تیار کیا تھا، جس سے مسلمان خاندانوں کو تباہی اور بربادی سے بچانا مقصود تھا۔ انھوں نے دیکھا کہ مسلمان خاندانوں کی حالت روز بروز تباہ و برباد ہوتی جاتی ہے اور جو امیر اور ذی مقدور خاندان تھے، ان کی اولاد مفلس ہوتی جاتی ہے اور جن میں ابھی کچھ جان باقی ہے، دو تین پشتوں کے بعد ان کی جائیدادیں اور ریاستیں بھی سب برباد اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم اور قرضے میں فروخت ہوجائیں گی۔ اس لیے ان کو یہ خیال پیدا ہوا کہ کوئی ایسی تدبیر کی جائے جس سے مسلمانوں کے معزز خاندان بنے رہیں اور ان میں کچھ ایسے ذی مقدور اور رئیس دکھائی دیں جن سے مسلمانوں کی قوم کی عزّت اور امتیاز قائم رہے۔ لیکن یہ مسودۂ قانون بعض قانونی دشواریوں کی وجہ سے قانون نہ بن سکا، جبکہ مسلم اشرافیہ نے اس کی حمایت کی اور حسبِ توقع مذہبی انتہا پسندوں نے مخالفت کی۔ سرسیّد کی رائے میں معاشرتی استحکام کا فقدان اور کمیونل معیشت کی غیر موجودگی مسلمانوں کی غربت اور زبوں حالی کے اصلی اسباب تھے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی خوشحالی کے لیے زراعت کے طریقوں میں نئی نئی اصلاحات اور ترقیاں ضروری ہیں۔ صنعت و حرفت کی تنظیم اور تجارت و کاروبار کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، لیکن ان کے مخاطب صرف متوسط اور بالائی طبقے کے مسلمان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے نیشنل کانگریس میں مسلمانوں کی شرکت زیادہ تر اسی وجہ سے پسند نہ کی کہ انھیں معلوم تھا کہ مسلمان بہ حیثیت مجموعی اپنے ہندوہمسایوں سے صرف تعداد اور تعلیم ہی میں پیچھے نہیںہیں، بلکہ معیشت میں بھی ان سے کمزور ہیں۔ ان کی حقیقی تشویش یہ تھی کہ اگر ہندوستان میں نیابتی طرزِ حکومت رائج ہو تو اقتصادی لحاظ سے کمزور مسلمان ہندوؤں کے مکمل طور پر تابع بن کر رہ جائیں گے۔ انھوں نے اپنے ایک خطاب میں مسلمانوں سے پوچھا: ’’کیا تم نے کبھی سوچا بھی ہے کہ ہندوؤں کے پاس کتنی دولت ہے اور ان کی سالانہ آمدنی کیا ہے؟ کیا آپ کے پاس ان کے برابر جائیداد اور دولت ہے؟ نہیں، بالکل نہیں‘‘ یہ بات کہ وہ آمرانہ مزاج کے آدمی تھے تو۔۔۔ مولانا سیّد سلیمان ندوی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ وہ بادشاہت کے حامی تھے۔ عبدالحمید رقم طراز ہیں: ’’ان کے خلقی، طبعی عالی نسبی مزاج نے ان کو جمہوریت کے روایتی تصور سے بدگمان کردیا تھا، جس میں ہر فرد اثر و رسوخ کی ایک اکائی کی حیثیت رکھتا ہے، اور جو موثر اصلاحی تدابیر کے نہ ہونے کی صورت میں، خودبخود عددی اکثریت کی آمریت کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔‘‘ سیّد سلیمان ندوی کی رائے میں جمہوریت کے لیے سرسیّد کی ناپسندیدگی کی وجہ بادشاہت سے محبت نہ تھی، بلکہ ہندوستان تھا جو بقول ان کے جمہوریت کے لیے غیرموزوں ملک تھا۔ انھوں نے صرف ایک بل کی منظوری پر اعتراض کیا تھا، یہ مسودۂ قانون لوکل سیلف گورنمنٹ و بلدیات کا بل (1883ئ) تھا۔ جس کے مطابق لوکل بورڈوں میں تمام سیٹوں کے لیے انتخاب کا اصول تسلیم کیا گیا تھا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ وائسرائے لارڈرپن نے تمام سیٹوں کے لیے انتخاب کی حمایت کی تھی، لیکن بعدازاں اپنی رائے تبدیل کرکے دوتہائی ارکان بذریعہ انتخاب اور ایک تہائی ارکان بذریعہ نامزدگی مقرر کرنے کا حامی ہوگیا تھا۔ اس بل کی مخالفت میں سرسیّد نے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ہندوستان بجائے خود ایک براعظم ہے، جس میں مختلف مذاہب کے پیروکار، بے شمار نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ مذہبی امتیازات یا ذات پات کے نظام کا سخت گیرانہ نفاذ، اقوام کو ہمسایہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے جدا رکھتے ہیں۔ لوگوں میں یکسانیت اور وحدت کہیں نظر نہیں آتی۔ ممکن ہے کہ کسی ایک صوبے میں مختلف مذاہب کے پیروکار یا مختلف ذاتوں کے لوگ آباد ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آبادی کا ایک حصہ تاجروں اور خوشحال مالکانِ جائیداد پر مشتمل ہو اور دوسرا حصہ تعلیم یافتہ یا معزز حضرات پر مشتمل ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک گروپ دوسرے گروپ کے مقابلے میں تعداد کے لحاظ سے بڑا، زیادہ روشن خیال اور ثقافتی سطح پر زیادہ ترقی یافتہ ہو۔ کسی کے نزدیک یہ بہت ضروری ہوگا کہ لوکل بورڈوں یا صوبائی کونسلوں کے ارکان لوگوں کے اپنے منتخب کردہ ہوں، جبکہ کسی اور کے نزدیک اِس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ پس ایسے حالات میں، یہ صاف ظاہر ہے کہ نیابتی اداروں کے قیام سے بے شمار معاشرتی اور سیاسی مشکلات پیدا ہوں گی۔… میرے لارڈ! ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں نسلی و مذہبی مخاصمت کی جڑیں بہت گہری ہوں، جہاں آبادی کے مختلف گروہوں کی ثقافتی ترقی کی سطحیں مختلف ہیں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اصولِ انتخاب کے رواج سے بہت سے مسائل پیدا ہوں گے۔ جب تک نسلی و مذہبی اختلافات اور ذات پات کی تقسیم ہندوستان کی معاشرتی و سیاسی زندگی کا حصہ ہیں، اس وقت تک یہاں جمہوری اداروں کا رواج ممکن نہیں۔ اکثریت یقینا اقلیت کو اپنے تابع رکھے گی… اس سے نسلی و مذہبی اختلافات مزید گہرے ہوں گے۔ میرے لارڈ! میں نے اس موضوع پر قدرے تفصیل سے بات کی ہے۔۔۔ اور اس کے باوجود کہ میں جمہوریت کا مخلص حامی ہوں، میں نے آپ کی توجہ جمہوری اداروں کے ایسے قاعدوں ضابطوں کی طرف مبذول کرائی ہے۔۔۔‘‘ سرسیّد کا خیال تھا کہ ہندوستان میں اصولِ انتخاب معاشی طور پر پسماندہ مسلم قوم کے مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا تھا: ’’ہماری موجود صورتِ حال ایسی ہے کہ اگر ہندو چاہیں تو ہمیں بہت تھوڑے وقت میں فنا کرسکتے ہیں۔ ملک کی تمام اندرونی تجارت ان کے ہاتھ میں ہے، جبکہ بیرونی تجارت پر پورا کنٹرول انگریزوں کا ہے۔‘‘ ایک اور موقع پر انھوں نے کہا تھا: ’’فرض کرو، الیکشن کے لیے یہ ضابطہ بنایا جاتا ہے کہ صرف ان رائے دہندگان کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا، جن کی سالانہ آمدنی پانچ ہزار روپے ماہوار سے کم نہ ہو۔ اب آپ بتائیے کہ مسلمانوں میں ایسے کتنے لوگ ہیں جن کی آمدنی اتنی زیادہ ہو۔‘‘ الیکشن کے نتائج پر غور کرو۔ کوئی ضلع ایسا نہیں ہے جہاں ہندوئوں اور مسلمانوں کی تعداد مساوی ہو۔ ایسی صورت میں کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان ہندوئوں پر غالب آجائیں گے اور حکومت خود اختیاری کی لگام ان کے ہاتھ میں ہوگی؟ کلکتہ میں مجھے ایک معزز خاندان کے باریش معمر بزرگ ملے۔ کہتے تھے ’’ہم پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ہمارے قصبے میں اٹھارہ ممبروں کا انتخاب ہونا تھا۔ ایک بھی مسلمان منتخب نہیں ہوا۔ تمام سیٹیں ہندوئوں نے جیت لیں۔ اب چاہتا یہ ہوں کہ حکومت کسی مسلمان کو نامزد کردے اور نامزدگی ہو تو میری ہو… تمام شہروں کی صورتِ حال یہی ہے۔۔۔‘‘
__________________
Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to intelligent086 For This Useful Post:
Maria J (02-27-2018), Moona (12-22-2017)
  #2  
Old 12-22-2017, 06:20 PM
Moona's Avatar
Moona Moona is offline
VIP Member
Points: 31,701, Level: 100
Points: 31,701, Level: 100 Points: 31,701, Level: 100 Points: 31,701, Level: 100
Level up: 0%, 0 Points needed
Level up: 0% Level up: 0% Level up: 0%
Activity: 100%
Activity: 100% Activity: 100% Activity: 100%
Tang aamad Jang aamad
 
I am: Angelic
 
Join Date: Apr 2016
Posts: 13,345
Thanks: 6,144
Thanked 536 Times in 274 Posts
Mentioned: 2745 Post(s)
Tagged: 1976 Thread(s)
Rep Power: 283
Moona is on a distinguished roadMoona is on a distinguished roadMoona is on a distinguished roadMoona is on a distinguished roadMoona is on a distinguished road

Awards Showcase
Member of the Month Member of the Month Winner of Fashion Winner of Urdu Adab 
Total Awards: 4

Default

Nyc Sharing
t4s
Reply With Quote
  #3  
Old 12-22-2017, 10:46 PM
intelligent086's Avatar
intelligent086 intelligent086 is online now
Co-Admin
Points: 673,423, Level: 100
Points: 673,423, Level: 100 Points: 673,423, Level: 100 Points: 673,423, Level: 100
Level up: 0%, 0 Points needed
Level up: 0% Level up: 0% Level up: 0%
Activity: 100%
Activity: 100% Activity: 100% Activity: 100%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Dec 2013
Location: لاہور، پاکستان
Posts: 55,500
Thanks: 4,115
Thanked 12,248 Times in 6,966 Posts
Mentioned: 3364 Post(s)
Tagged: 6345 Thread(s)
Rep Power: 1167
intelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud of
intelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud ofintelligent086 has much to be proud of

Awards Showcase
Winner Of IT Monthly Competitions Award Member of the Month(Male) Member of the Month(Male) 
Total Awards: 31

Default

Quote:
Originally Posted by moona [Only Registered Users Can See LinksClick Here To Register]
nyc sharing
t4s
پسند ، رائے اور حوصلہ افزائی کا شکریہ
__________________
Reply With Quote
  #4  
Old 02-27-2018, 06:39 PM
Maria J's Avatar
Maria J Maria J is offline
Special Member
Points: 5,419, Level: 47
Points: 5,419, Level: 47 Points: 5,419, Level: 47 Points: 5,419, Level: 47
Level up: 35%, 131 Points needed
Level up: 35% Level up: 35% Level up: 35%
Activity: 99%
Activity: 99% Activity: 99% Activity: 99%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Apr 2016
Age: 27
Posts: 3,605
Thanks: 1,774
Thanked 0 Times in 0 Posts
Mentioned: 145 Post(s)
Tagged: 4030 Thread(s)
Rep Power: 89
Maria J is on a distinguished roadMaria J is on a distinguished roadMaria J is on a distinguished roadMaria J is on a distinguished roadMaria J is on a distinguished road
Default

Info...
Bohat umda
thanks 4 nice sharing
Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
intelligent086, iqtabasaat, kahani, urdu adab, urdu islamic quotes, , , سرسید


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump


All times are GMT. The time now is 11:53 PM.


Skin and Styling by [ Achi Dosti ] TheMask & Emaan
All Rights Reserved © www.achidosti.com
Aapka apna Urdu 

Forum

Disclaimer: All material on the forum (AchiDosti.Com) is provided for informative and/ or entertainment purposes only. None of the files shown here are actually hosted or transmitted by this server the links are provided solely by this site's users. All copyrighted material belongs to the copyright holders. If you find any of your copyrighted material on this site and you would like it to be removed, please Contact us and it will be removed promptly.