Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.comAap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com
  Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com
Register Achi Dosti VideosInvite Your Friends FAQ Calendar Search Today's Posts Mark Forums Read


Home Today's Posts
Go Back   Aap ka Apna Urdu Forum !!! AchiDosti.com > Entertainment Balcony > Chit Chat & A.D Games > Famous People Interviews


User Tag List

Reply
 
Thread Tools Display Modes
  #1  
Old 12-16-2011, 06:13 PM
Cute's Avatar
Cute Cute is offline
Special Member
Points: 3,160, Level: 34
Points: 3,160, Level: 34 Points: 3,160, Level: 34 Points: 3,160, Level: 34
Level up: 74%, 40 Points needed
Level up: 74% Level up: 74% Level up: 74%
Activity: 0%
Activity: 0% Activity: 0% Activity: 0%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Oct 2011
Posts: 2,732
Thanks: 865
Thanked 47 Times in 9 Posts
Mentioned: 1 Post(s)
Tagged: 1198 Thread(s)
Rep Power: 114
Cute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished road
Cute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished roadCute is on a distinguished road
azsvx اسد علی خان

اپاکستان میں تیز رفتار ترقی کرنے والی ۲۵؍کمپنیوں میں سے ایک

مینجمنٹ کنسلٹنسی کے شعبے میں پاکستان کی سب سے نمایاں کمپنی Abacus کے چیف ایگزیکٹو

ہم لوگ کاغذ پر بڑی بڑی اقدار لکھ لیتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کرتے

اسد علی خان: میرے والد صاحب کسٹم سروس میں تھے، ہم لائل پور رہتے تھے جسے اب فیصل آباد کہتے ہیں۔ میری عمر چھ یا سات سال تھی اور ہم تانگے میں سکول آیا جایا کرتے تھے۔ ایک دن واپسی پر میں والد صاحب کے دفتر گیا۔ خیال یہ تھا کہ والد صاحب دوپہر کے کھانے پہ گھر جاتے ہیں ان کے ساتھ واپس گھر چلا جائوں گا۔ میرے والد نے کہا کہ تم ایک کونے میں بیٹھ کر اپنا ہوم ورک کرلو، میرے کچھ مہمان آنے والے ہیں ان سے ملاقات کے بعد ہم گھر چلیں گے۔ چند منٹوں میں دفتر میں ایک گورا آگیا۔ والد صاحب نے اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی بلا لیا۔ وہ گورا ورلڈ بنک کا کنسلٹنٹ تھا۔ اس نے ان لوگوں کو بتانا شروع کردیا کہ اصلاحات کیوں ضروری ہیں۔ دنیا میں کام کے بہتر طریقے کیا ہیں۔ سارے لوگ اس کی باتیں غور سے سنتے رہے۔ میرا دھیان بھی اپنی کتابوں کی طرف کم تھا۔ میں بھی اس کی طرف دیکھتا رہا۔ جب یہ سیشن ختم ہو گیا اور باقی لوگ چلے گئے تو میرے والد صاحب اس گورے سے گپ شپ کرنے لگے۔ میرے والد نے اس سے پوچھا کہ آپ کی آمدنی کیا ہے؟ اُس نے بتایا کہ ورلڈبنک کے کنسلٹنٹ کے طور پر مجھے جنوبی ایشیا میں مختلف پراجیکٹ ملتے رہتے ہیں۔ میں روزانہ کے ۱۰؍ ڈالر لیتا ہوں۔ یہ ۵۱ء کی بات ہے جب ڈالر چار یا پانچ روپے کا تھا۔ میں نے اس کی آمدنی کا حساب لگایا تو وہ ۱۲؍ سو روپے ماہانہ بنتی تھی۔ میرے والد نے کچھ دن پہلے ایک پرانی گاڑی لی تھی۔ اس کی قیمت ۶؍ سو روپے تھی۔ اس گاڑی کی بڑی دھوم تھی۔ میں اس گورے کی آمدنی سے بہت متاثر ہوا اور سوچنے لگا کہ ۱۲؍ سو روپے آمدنی سے تو مہینے میں دو گاڑیاں خریدی جا سکتی ہیں۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ مستقبل میں مجھے اسی طرح کا کنسلٹنٹ بننا ہے۔۶۰ء کے عشرے میں اُردُوڈائجسٹ ہمارے گھر آیا کرتا تھا۔ ان دنوں میں کالج جاتا تھا۔ پھر میں تعلیم کے لیے باہر چلا گیا۔ واپس آیا تو اُردُوڈائجسٹ اب بھی ہمارے گھر موجود ہوتا تھا۔ میری والدہ اسے بڑے شوق سے پڑھتی تھیں۔ ہم بھی اسے پڑھتے تھے

کچھ عرصہ کے بعد میرے والد صاحب لاہور آگئے۔ میری تعلیم کا سلسلہ یہاں شروع ہوگیا۔ میں نے سنٹرل ماڈل سکول لوئر مال سے میٹرک کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے انٹرمیڈیٹ کیا۔ ہیلے کالج سے بی۔کام آنرز کیا۔ ہمارے خاندان میں سے جو انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرتا تھا وہ آرمی میں چلا جاتا تھا اور جو بی۔اے کرلیتا تھا وہ سی۔ایس۔ایس (CSS) کرنے کے بارے میں سوچتا تھا۔ میں کچھ مختلف کرنا چاہتا تھا۔ میں کامرس اور Mathsمیں اچھا تھا۔ میں نے والد صاحب سے بات کی کہ میں کامرس کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہوں تو انھوں نے اجازت دے دی۔ بی۔کام میں ہمارا اکنامکس کا ٹیچر ایک امریکن تھا۔ وہ ہماری راہنمائی کرتا تھا کہ مستقبل میں کیا راہیں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ اسی کی راہنمائی سے میں نے فیصلہ کرلیا کہ مجھے بیرون ملک جانا ہے اور چارٹرڈ اکائونٹنٹ بننا ہے۔ میں نے انگلینڈ کے لیے درخواست دے دی۔ ان دنوں سٹیٹ بنک کا کوٹہ سسٹم ہوتا تھا۔ میں اس کے لیے اسٹیٹ بنک کراچی گیا اور صبح ۵؍بجے ہم تین دوست قطار میں کھڑے ہوگئے۔ یہ درخواست منظور ہوگئی۔ اس عرصے میں مجھے آسٹریلیا کی ایک اکائونٹنگ فرم کوپرز اینڈ لی برانڈ (Coopers & Lybrand) سے CA کرنے کے لیے آفر ملی۔ ہمارے خاندان میں ایک رشتہ دار چارٹرڈاکائونٹنٹ تھے۔ ان سے مشورہ کیا تو انھوں نے راہنمائی کی کہ آسٹریلیا سے آنے والی آفر زبردست ہے اور یہ سب سے اچھا پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ اس طرح میں نے آسٹریلیا جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں میں نے ۵؍سال میں CA کی تعلیم مکمل کرلی۔ آسٹریلیا میں ، میں نے اپنی تعلیم بھی مکمل کی اور کرکٹ بھی خوب کھیلی۔اب بھی مجھے کرکٹ دیکھنے کا شوق ہے۔ اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر کرکٹ میچ دیکھنے بھی چلا جاتا ہوں۔

آسٹریلیا سے میں پاکستان آ گیا۔ پانچ چھ سال یہاں کام کیا۔ یہ ۷۰ء کے عشرے کی بات ہے۔ یہاں نیشنلائزیشن ہورہی تھی۔ نئے پروجیکٹ نہیں لگ رہے تھے۔ سرمایہ کاری بھی نہیں ہورہی تھی۔ ایسی فضا میں آپ کا سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔پھر میں سعودی عرب چلا گیا۔ یہاں میرے کئی کلائنٹ تھے۔ تجربے میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ دنیا کو گھومنے کا موقع بھی ملا۔ میں کئی بڑی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا رُکن بھی بن گیا۔

س: پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیسے کیا؟

اسد علی خان: یہاں دو اہم باتیں ہوئیں اور میں نے واپس پاکستان آنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک بات تو میں نے یہ محسوس کی کہ بچوں کی پاکستان سے اپنی اقدار سے دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔ میرے بچے برٹش سکول میں جاتے تھے۔ ایک اور چیز یہ سامنے آئی کہ ایک خاص عمر کے بعد بچوں کے لیے تعلیم کے مواقع بھی محدود تھے۔ ۸۶ء میں ہم واپس پاکستان آگئے۔ یہ اپنی کشتیاں جلانے والی بات تھی۔پاکستان میں بچے سکول جانے لگے۔ میں نے گلبرگ میں ایک کوٹھی کرائے پر لے کر اپنی کمپنی کا آغاز کر دیا اور میرا میدان اب بھی کارپوریٹ فنانس ہی تھا۔ شروع کے پہلے ۲؍ سال مشکل کا دور تھا۔

س: کمپنی کا نام کیسے رکھا؟

اسد علی خان: جن دنوں میں آسٹریلیا میں تھا تو پاکستان آتے ہوئے ہانگ کانگ رکنا پڑتا تھا۔ ہانگ کانگ کو شاپنگ کی جنت سمجھا جاتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے ۲؍دن رکنا تھا۔ میرے پاس ٹریولر چیک تھے۔ میں کرنسی حاصل کرنے کے لیے بنک گیا۔ وہاں کیشیئر کے پاس مستطیل چوکھٹا تھا جس میں نالیاں بنی ہوئی تھیں۔ اس نے ان نالیوں کے اندر پڑے ہوئے منکے (Beads) ادھر ادھر کھسکاتے ہوئے حساب کیا اور مجھے کرنسی دی۔ جس طرح وہ منکوں کے ساتھ برق رفتاری سے حساب کتاب کررہا تھا۔ میں اس سے بہت متاثر ہوا۔ ان دنوں کیلکولیٹر نہیں ہوا کرتے تھے۔ میرے میزبان جو مجھے وہاں لینے آئے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ یہ چوکھٹا کیا چیز ہے جس سے حساب کتاب کیا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ایبیکس (Abacus) ہے۔جب کمپنی کا نام رکھنے کا مرحلہ آیا تو میں نے فوراً فیصلہ کرلیا کہ اس کا نام ایبیکس ہوگا۔

س: آغاز کے دن کیسے رہے؟

اسد علی خان: شروع میں میرے پاس دفتر میں زیادہ کام نہیں ہوتا تھا۔ میرا زیادہ وقت اپنے پرانے کلائنٹس کو خط لکھنے یا ٹیلکس بھیجنے، ان کے مسائل کے لیے مشورے دیتے گزرتا تھا۔ ۱۱؍بجے میری بیوی آتی اور مجھے کافی بنا کر دیتی۔ پھر میں نے ایک قاصد رکھ لیا۔ یہ میرا پہلا ملازم تھا۔ اس کے بعد میں نے ایک خاتون Receptionist رکھ لی۔

اُنہی دنوں ایک امریکی کمپنی کی طرف سے اخبار میں اشتہار آیا۔ وہ USAID کی مدد سے شروع ہونے والے واپڈا (Wapda) کے ایک بڑے پروجیکٹ پہ کام شروع کررہی تھی۔ اشتہار دیکھ کر مجھے اندازہ ہوگیا کہ ان کا مطلوبہ کام میں کرسکتا ہوں۔ لیکن میری کمپنی نے ابھی کچھ عرصہ پہلے کام شروع کیا تھا۔ اس لیے اس کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا۔ میں نے کام کے لیے بڑی محنت سے درخواست تیار کی اور اپنا بھرپور عزم ظاہر کیا کہ اگر مجھے موقع دیا جائے تو میں یہ کام بہترین طریقے سے کرسکتا ہوں۔ یہ درخواست دینے کے دو ماہ بعد ایک دن کچھ امریکی میرے آفس آئے۔ انھوں نے میری Receptionist سے میرے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ ابھی آفس نہیں آئے۔ انھوں نے ادھر ادھر کمروں میں گھومنا شروع کردیا اور واپس چلے گئے۔ جب میں آفس آیا تو Receptionist نے سارا ماجرا سنایا۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ کون لوگ تھے اور کیا کرنے آئے تھے۔ میرے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ یہ شاید میرے ہمسائے میں رہنے والے امریکی کے جاننے والے ہوں اورغلطی سے یہاں آگئے ہوں۔

اڑھائی بجے کے بعد مجھے فون آیا کہ مسٹر خان آپ کو مبارک ہو، ہم نے آپ کو منتخب کرلیا ہے۔ مجھے ان کی کوئی بات سمجھ نہیں آئی کہ یہ کس چیز کی مبارک دے رہے ہیں۔ جب انھوں نے مجھے واپڈا کے پروجیکٹ کے لیے میری درخواست کا ذکر کیا تو میں سارا معاملہ سمجھ گیا کہ میری کمپنی کو اس پروجیکٹ کے لیے کام کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ یہ ایک بڑا پروجیکٹ تھا جو سات سال چلا۔اس سے ہمیں نمایاں کامیابی ملی۔ اس میں ہمیں واپڈا کو مختلف شعبوں کے ماہرین مہیا کرنے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔

س:آپ ہیومن ریسورسز (HR) کی طرف کیسے آئے؟

اسد علی خان: ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے ہیومن ریسورسز کا شعبہ پاکستان میں متعارف کروایا۔ اس سے پہلے لوگ صرف ایڈمنسٹریشن سے واقف تھے۔ جب میں مشرقِ وسطیٰ میں تھا تو میں نئے آنے والے علم کو سمجھنے کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی کانفرنسوں میں جاتا رہتا تھا۔ اسی دوران امریکہ میں ایک کانفرنس میں HR کی بات ہوئی۔ مجھے اس وقت اندازہ ہوگیا کہ یہ مستقبل کا اہم شعبہ بن جائے گا۔
اسی طرح ہم ان چند لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے کارپوریٹ بزنس میں آئی۔ ٹی (IT) کو لانے کے لیے باتیں شروع کیں۔ ہم دیکھ رہے تھے کہ مستقبل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بغیر بزنس کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ایک کامیاب بزنس مین نئے علوم اور تبدیلیوں پر نظر رکھتا ہے۔ اس سے وہ مارکیٹ کے رجحانات سمجھ سکتا ہے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے سیکھنے کا عمل جاری رکھنا چاہیے۔

س: آئی۔ٹی کا خیال کیسے آیا؟

اسد علی خان: ۸۴ء میں جب سعودی عرب میں تھا تو ہمارے کلائنٹس کے پاس بڑی بڑی Inventories ہوتی تھیں۔ میں نے امریکہ میں دیکھا کہ وہاں Inventory کے لیے سافٹ ویئر کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ میں نے اپنے کلائنٹس کی توجہ اس طرف دلائی اور جب میں امریکہ سے سعودی عرب اپنے لیے کمپیوٹر لے کر آیا تو مجھے اس کے لیے ایکسپورٹ لائسنس لینا پڑا۔

س: بزنس میں کامیابی کے لیے آپ نے کن اقدار کو اہم سمجھا؟

اسد علی خان: میرے نزدیک تین چیزیں بزنس کے لیے اہم ہیں۔ ایک یہ کہ شفاف طریقے سے کام کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ لوگوں کو اہمیت دی جائے۔ کسی کو کمتر نہ سمجھا جائے اورتیسری اہم چیز یہ کہ اپنے کلائنٹس سے غلط بیانی نہ کی جائے۔

ہماری مشن سٹیٹمنٹ میں بھی آپ کو یہ باتیں نظر آئیں گی۔ لوگوں کو اہمیت دینے سے متعلق ایک سبق میں نے آسٹریلیا میں سیکھا۔ ہمارے ایک ٹیسٹ میں ۴۰؍سوالات تھے۔ ان میں ایک سوال یہ تھا کہ اُس ملازمہ کا نام بتائیں جو آپ لوگوں کو یہاں روزانہ چائے لا کر دیتی ہے۔ ہم میں سے کوئی اس سوال کا جواب نہ دے سکا۔ میرا خیال تھا یہ سوال شاید غلطی سے ٹیسٹ میں شامل ہوگیا ہے۔ ٹیسٹ کے بعد جب اس ٹیسٹ بنانے والے سے میں نے سوال کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ سوال سب سے اہم ہے۔ یہاں سے میں نے یہ زندگی کا اہم سبق سیکھا کہ آپ کی زندگی میں آنے والا ہر شخص توجہ کا مستحق ہے۔ دوسروں کو اہم سمجھنے کے حوالے سے ایک مقولہ بہت خوبصورت ہے:

’’جب آپ دوسروں کی بات توجہ سے سنتے ہیں، تو آپ دوسروں کو اہم سمجھنے لگتے ہیں۔ جب آپ دوسروں کو اہم سمجھتے ہیں، اس سے آپ کو نیک نامی ملتی ہے۔ نیک نامی سے آپ کو قوت ملتی ہے اور اس قوت سے آپ طلسماتی خوبیوں والا کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔‘‘

نئی چیزوں کو سیکھتے رہنا بڑا اہم ہے اسی حوالے سے ایک جادوگر کا واقعہ بہت دلچسپ ہے:’’ایک چین کا جادوگر شو کررہا تھا۔ اس نے حاضرین سے کہا کہ ایک ایک کنکر اٹھا لیں اور ان کو سٹیج پر رکھتے جائیں۔ ۱۰۰-۱۵۰ بندے اٹھے اور سٹیج پہ کنکروں کا ڈھیر لگ گیا۔ اس جادوگر نے اپنی چھڑی کے ذریعے ان کو سونے میں تبدیل کردیا۔ سب کو کہا باری باری آئیں اور ایک ایک کنکری لے جائیں۔ آخر میں وہاں پہ ایک نوجوان رہ گیا اور سامنے ایک کنکری رہ گئی۔ جادوگر نے اس سے کہا کہ بھائی تم بھی آئو اور اپنی کنکری لے جائو۔ شو ختم ہوگیا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اس کنکری کا کیا کروں گا؟ میں اسے بیچ کر رقم حاصل کروں گا اور کھا پی جائوں گا۔ مجھے تو وہ فن سیکھنا ہے جو ان پتھروں کو سونا بناتا ہے۔ اسی طرح جب کسی شعبے کو پوری طرح سمجھ لیتے ہیں آپ ایسا ہی فن سیکھ جاتے ہیں۔‘‘

س: آپ نے زندگی کی کنکریوں کو سونا بنانے کے دوران کبھی اپنے کلائنٹس کو انکار بھی کیا؟

اسد علی خان: میں نے زندگی میں کئی مرتبہ کلائنٹس کو انکار کیا۔ کئی اہم مواقع سے انکار کیا جب میں نے دیکھا کہ یہ معاملات میری اقدار کے مطابق نہیں یا مجھے ایسا لگا کہ اس میں شفافیت نہیں۔ میں نے کئی بڑے معاہدوں سے آخری لمحوں میں انکار کردیا جب مجھے محسوس ہوا یہاں شفافیت نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ اقدار کو ساتھ لے کر نہیں چلتے، دیانتداری کامظاہرہ نہیں کرتے تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

س: یہ اقدار کہاں سے سیکھیں؟ ان پر آپ کا اس قدر ایمان اور یقین کیسے بنا؟

اسد علی خان: جب میں آسٹریلیا میں کوپر اینڈ لی برانڈ میں تھا تو میں ان کے ضابطۂ اخلاق سے بہت متاثر ہوا۔ میں سمجھتا ہوں ہم لوگ صرف کاغذوں پہ بڑی بڑی اقدار لکھ لیتے ہیں مگر ان پہ عمل نہیں کرتے۔

جب میں ورلڈ کانگریس آف مینجمنٹ کنسلٹنٹس کی کانفرنس کے لیے نیویارک گیا۔ وہاں چین کے بارے میں ایک سیشن میں شرکت کا موقع ملا۔ اس کے اختتام پہ سوالات کے لیے مخصوص وقت شروع ہوا۔ میزبان نے حاضرین سے پوچھا کہ کوئی سوال ہے تو کیجیے۔ سب خاموش رہے۔ اس نے کیونکہ اس وقت کو استعمال کرنا تھا لہٰذا اس نے چین کے بارے میں دوبارہ بولنا شروع کردیا۔ اس نے رک کر دوبارہ سوالات کی دعوت دی۔ میں کھڑا ہوا اور ایک سوال کردیا اس نے اس کا جواب دیا اور حاضرین کو دوبارہ سوالات کی دعوت دی۔ سب خاموش رہے میں نے پھر ایک سوال کردیا۔ میرے اس سوال کے بعد حاضرین کی طرف سے سوالات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ سیشن ختم ہوا تو واپس جا رہا تھا کہ مجھے کسی نے پیچھے سے روکا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہی میزبان تھا۔ اس نے میرا شکریہ ادا کیا کہ میری وجہ سے یہ سیشن اتنا شاندار ہوگیا ہے۔ اس کے بعد ہم نے مل کر چائے پی اور اس نے پوچھا کہ آپ کہاں کام کرتے ہیں۔ میں نے بتایا کہ میں پاکستان میں ہوں۔ وہ کوپرز اینڈ لی برانڈ آسٹریلیا کا پارٹنر تھا۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میں ان کے ساتھ آسٹریلیا میں کام کرتا رہا ہوں تو اس کی دلچسپی مجھ میں بڑھتی گئی۔ اس نے مجھے لندن میں رکنے کی دعوت دی۔ یوں تین مہینوں میں میری ان کے ساتھ الائنس ہوگئی۔ اس سے آگے بڑھنے کی کئی راہیں کھلیں۔

س: کتنے دن پاکستان میں ہوتے ہیں اور کتنے دن پاکستان سے باہر رہتے ہیں؟

اسد علی خان: یہ مصروفیت پہ منحصر ہے۔ دن مخصوص نہیں ہیں۔ مصروفیات تو اسی طرح ہی چلتی ہیں۔

س: مستقبل کے لیے کیا منصوبے ہیں؟

اسد علی خان: ہمارے پاس دنیا سے بے شمار آفرز آتی رہتی ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ مل جائیں یا ہمارے ساتھ چلیں۔ لیکن ہم اگلے دو سال تک مزید علاقوں میں پھیلنا نہیں چاہتے۔

س: بچوں کے بارے میں کچھ بتائیں۔ کتنے آپ جیسے ہیں؟

اسد علی خان: تین بچے، جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہے چارٹرڈاکائونٹنٹ اور انگلینڈ میں ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے جیسا باپ ویسا بیٹا تو اسی طرح کا معاملہ ہے۔ ان میں سے دو کمپنی کا حصہ ہیں۔ بڑے بیٹے نے کمپیوٹر سائنسز اور حسابمیں گریجویشن اور ماسٹرز کیا ہے، دوسرا بیٹا مشرقِ وسطیٰ(دُبئی) میں ہمارے آفس کا سربراہ ہے۔

بیٹی نے ریکارڈ مدت یعنی ۲؍ سال سے بھی کم عرصے میں CA کیا۔ اس نے پہلے Artificial Intelligent میں تعلیم حاصل کی۔ سب سے چھوٹے بیٹے نے گریجوایشن کی ہے۔ اسے موسیقی کا بھی شوق ہے۔ اس نے اے لیول میں تین Straight A حاصل کیے تھے۔

س: پاکستان کے بارے میں منفی باتیں سننے میں آتی رہتی ہیں، لیکن آپ کے کامیابی کے سفر سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان مواقع کی سرزمین ہے۔ آپ نے دیانت داری اور شوق کے ساتھ کام کیا اور اسی جگہ سے آپ کو ترقی کے مواقع ملے۔

اسد علی خان: میں تو بچوں کو ہمیشہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے ملک کی قدر، اس سے محبت اور لوگوں کا بھلا کریں گے۔ ہاں میں نے کبھی اپنی اولاد کے بھلے کے نام پر ان پر اپنا فیصلہ مسلط نہیں کیا۔ وہی لوگ ترقی کرتے ہیں جو اپنی پسند کا شعبہ اختیار کریں اور پھر اس میں بہترین بنیں۔ میری کامیابی میں جہاں میرے ویژن، اقدار اور معیار کا عمل دخل ہے، وہاں میری اہلیہ نے بھی مجھے بہت خوشی اور سکون عطا کیا ہے۔ میرے ادارے سے کوئی بچہ ترقی کرکے باہر جانا چاہے تو ہم اس کو پارٹی دیتے ہیں، روکتے نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہمارا نام لگا ہے۔ وہ ہمارا پراڈکٹ ہے۔ Abacus کا نام ساتھ لگا ہو تو دنیا بھر میں ترجیحاً ملازمت ملتی ہے کہ یہ اچھے سسٹم سے آیا ہے۔

ہم کئی بڑی بڑی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ الائنس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں نئے علم اور کام کے بہتر طریقوں تک رسائی ملتی ہے۔

گلوبلائزیشن کے اس دور میں ہم اکیلے نہیں رہ سکتے۔ ہمارے ملک کی لوکیشن بڑی اہم ہے۔ ترکی سے وسط ایشیائی ریاستوں تک کا علاقہ مستقبل میں بہت اہمیت اختیار کر جائے گا۔ اگلے ۱۰-۲۰ برس کاروبار اسی علاقے میں ہوگا۔ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا انعام ہے کہ ہم اس ریجن کے مرکز میں واقع ہیں۔ اس ریجن میں سڑکیں ہونی چاہئیں جو ہمیں ترکی اور وسط ایشیائی ریاستوں سے ملائیں، موٹرویز ہونی چاہئیں، ٹریڈ روٹس بننے چاہیے، اس طرح ہم ترقی کرسکتے ہیں۔

ہمارا میڈیا منفی باتوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، یہ نہیں ہونی چاہئیں، لیکن ہمارے میڈیا کو مثبت باتیں بھی سامنے لانی چاہئیں اور مایوسی کم پھیلانی چاہیے۔

س: آپ کس لیڈر سے متاثر ہوئے؟

اسد علی خان: میں Peter Drucker کومینجمنٹ میں بہت اہم مفکر سمجھتا ہوں۔ اس نے ہر عشرے کے لیے پیش گوئی کی ہے۔ اسی طرح آل ورلڈ نیٹ ورک کے بانی مائیکل پورٹر کے خیالات بھی متاثر کن ہیں۔ ان کا ادارہ دنیا میں ابھرتے ہوئے بزنس لیڈرز کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

س: کس طرح کی کتابیں اور تحریریں آپ کو مضبوطی (Enrich) دیتی ہیں۔

اسد علی خان: ہنری فورڈ کی باتیں بہت دلچسپ ہیں۔ اس نے ایک موقع پر کہا تھا کہ آپ مجھ سے ہر چیز لے لیں۔ میری عمارتیں، میری فیکٹریاں سب کچھ لیکن میرے لوگ مجھے واپس کردیں تو میں آپ کو دوبارہ اسی طرح کا Setup بنا دوں گا۔

س: مغرب میں انتھونی رابنز کی ایک تھیوری بڑی مقبول ہے کہ انسان اپنے بہترین دوستوں کی دولت اور خصوصیات (Traits) کی فہرست بنائے اور ان کی اوسط نکال لے تو خود اس کی اپنی شخصیت کا عکس اور دولت اس کے سامنے آجائے گی۔ آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟

اسد علی خان: دوستوں کے حوالے سے کافی خوش نصیب ہوں۔ کچھ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں اور کچھ کلائنٹس ہیں۔ دوستوں سے ذاتی صلاح مشورے بھی ہوتے رہتے ہیں۔

س:اپنے پاکستان واپس آنے کے فیصلے کے بارے میں کبھی پچھتاوا ہوا؟

اسد علی خان: یہ اللّٰہ تعالیٰ کی مہربانی تھی کہ میں نے درست فیصلہ کیا اور اس بارے میں کوئی پچھتاوا نہیں۔ جب آپ اپنے آپ اور دوسروں سے مخلص ہوتے ہیں تو اللّٰہ آپ پر کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔

س: ہمارا جو ٹیلنٹ ملک سے باہر چلا جاتا ہے اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟


اسد علی خان: ہمارے اپنے ادارے سے لوگ باہر چلے جاتے ہیں۔ ہم نے ان پر کافی محنت کی ہوتی ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک کو اس سے فائدہ ہی ہوتا ہے۔ میں تو لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ باہر جائیں اور نیا علم سیکھیں۔
__________________
Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to Cute For This Useful Post:
Muslima92 (12-17-2011), Ranii (12-17-2011)
  #2  
Old 12-17-2011, 01:04 PM
Muslima92's Avatar
Muslima92 Muslima92 is offline
Ya Rab!Forgive me please
Points: 9,355, Level: 65
Points: 9,355, Level: 65 Points: 9,355, Level: 65 Points: 9,355, Level: 65
Level up: 2%, 295 Points needed
Level up: 2% Level up: 2% Level up: 2%
Activity: 2%
Activity: 2% Activity: 2% Activity: 2%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Apr 2011
Location: Heaven INSHALLAH
Age: 25
Posts: 3,822
Thanks: 1,412
Thanked 232 Times in 61 Posts
Mentioned: 4 Post(s)
Tagged: 2 Thread(s)
Rep Power: 132
Muslima92 is on a distinguished roadMuslima92 is on a distinguished roadMuslima92 is on a distinguished roadMuslima92 is on a distinguished roadMuslima92 is on a distinguished road

Awards Showcase
Monthly Competitions Award Monthly Competitions Award 
Total Awards: 2

Default

I have already read this in Urdu Digest..
nice sharing
__________________

My Lord! I am truly in need of whatever good that You bestow on me!’
[Surah Qasas:24]


Reply With Quote
  #3  
Old 12-17-2011, 02:54 PM
Ranii's Avatar
Ranii Ranii is offline
Co-Admin
Points: 741,456, Level: 100
Points: 741,456, Level: 100 Points: 741,456, Level: 100 Points: 741,456, Level: 100
Level up: 0%, 0 Points needed
Level up: 0% Level up: 0% Level up: 0%
Activity: 23%
Activity: 23% Activity: 23% Activity: 23%
I’m in this weird stage
where I don’t really like
myself, but I don’t really
care anymore
 
I am: Devilish
 
Join Date: Jul 2011
Location: City Of Bandle ♥
Posts: 59,984
Thanks: 18,027
Thanked 13,251 Times in 4,343 Posts
Mentioned: 1613 Post(s)
Tagged: 4744 Thread(s)
Rep Power: 1274
Ranii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud of
Ranii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud ofRanii has much to be proud of

Awards Showcase
Batooni Kuri Hard Work Monthly Competitions Award Winner of Picture Gallery 
Total Awards: 27

Default

nice interview
main yeh parh chuki hoon pehlay :

__________________




Reply With Quote
  #4  
Old 02-10-2014, 08:25 AM
Zee Leo's Avatar
Zee Leo Zee Leo is offline
Member
Points: 50,508, Level: 100
Points: 50,508, Level: 100 Points: 50,508, Level: 100 Points: 50,508, Level: 100
Level up: 0%, 0 Points needed
Level up: 0% Level up: 0% Level up: 0%
Activity: 0%
Activity: 0% Activity: 0% Activity: 0%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Jan 2014
Posts: 98
Thanks: 17
Thanked 44 Times in 4 Posts
Mentioned: 15 Post(s)
Tagged: 108 Thread(s)
Rep Power: 37
Zee Leo is on a distinguished roadZee Leo is on a distinguished roadZee Leo is on a distinguished roadZee Leo is on a distinguished roadZee Leo is on a distinguished road
Default

Quote:
Originally Posted by Ranii [Only Registered Users Can See LinksClick Here To Register]
nice interview
main yeh parh chuki hoon pehlay :

[SIZE=5 div id=]FFA AD Alphabet
[/SIZE]
Reply With Quote
  #5  
Old 02-10-2014, 08:27 AM
~snow~'s Avatar
~snow~ ~snow~ is offline
Member
Points: 11,612, Level: 70
Points: 11,612, Level: 70 Points: 11,612, Level: 70 Points: 11,612, Level: 70
Level up: 91%, 38 Points needed
Level up: 91% Level up: 91% Level up: 91%
Activity: 1%
Activity: 1% Activity: 1% Activity: 1%
This user has no status.
 
----
 
Join Date: Jan 2013
Posts: 329
Thanks: 36
Thanked 10 Times in 2 Posts
Mentioned: 0 Post(s)
Tagged: 263 Thread(s)
Rep Power: 49
~snow~ is on a distinguished road~snow~ is on a distinguished road~snow~ is on a distinguished road~snow~ is on a distinguished road~snow~ is on a distinguished road
Default

thanks for sharing
Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
, , علی,


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump


All times are GMT. The time now is 11:26 PM.


Skin and Styling by [ Achi Dosti ] TheMask & Emaan
All Rights Reserved © www.achidosti.com
Aapka apna Urdu 

Forum

Disclaimer: All material on the forum (AchiDosti.Com) is provided for informative and/ or entertainment purposes only. None of the files shown here are actually hosted or transmitted by this server the links are provided solely by this site's users. All copyrighted material belongs to the copyright holders. If you find any of your copyrighted material on this site and you would like it to be removed, please Contact us and it will be removed promptly.